" ایجنسیاں اور سیاستدان "
ہم اس ملک میں رہتے ہیں ، جہاں یہ شور ہمیشہ رہتا ہے کہ ایجینسیاں سیاسی معاملات میں مداخلت کرتی ہیں ۔ جو جیت جاتا ہے ، وہ خاموشی سے کرسی جھولتا رہتا ہے ۔ جو ہار جاتا ہے ، شور مچا دیتا ہے کہ دیکھا ، ایجینسیاں ہاتھ کر گئیں ، دیکھا اسٹیبلشمنٹ نے کام دکھا دیا ۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ۔ سب سیاستدان ، سب سیاسی کارکن ، سب دانشور اور ساری عوام بخوبی جانتی ہے کہ اس ملک میں کوئی بھی حلقہ ایسا نہیں جہاں " ان دیکھی طاقتیں " ووٹ نہ ڈالتی ہوں ۔ یہ ان دیکھے لوگ سیاسی امیدواروں کے کارندے ہوتے ہیں ، جو " جھرلو " کے ماہر ہوتے ہیں ۔ کونسا ایسا امیدوار ہوتا ہے جو انتخابات کی انجنئیرنگ نہ جانتا ہو اور جیت جاتا ہو ۔
موضوع بحث ، ایجینسیاں ہیں ۔ پوری دنیا میں کونسا ایک ملک ہے ، جہاں ایجینسیوں نے اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو آزاد چھوڑ رکھا ہوتا ہے ۔ کونسا ملک ہے ، جسکی پالیسی سازی میں ان ایجینسیوں کی رائے شامل نہیں ہوتی ۔ ابھی چند ماہ پہلے ٹرمپ چیخ رہا تھا کہ ایف بی آئی اسے شکست سے دوچار کرنا چاہتی تھی ۔ ایجینسیوں کے فرائض کا حصہ ہوتا ہے کہ وہ ہر اس معاملے پر نظر بھی رکھیں ، مداخلت بھی کریں اور روکیں بھی ، جس معاملے سے قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہوں ۔ ایف آئی اے ، مخفف ہے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجینسی کا ، آئی ایس آئی ، مخفف ہے انٹر سروسز انٹیلیجیس کا ۔ کیا ان دونوں اداروں کو ہاتھ پاوں باندھ کر بٹھا دیا جانا چاہئیے ۔ یا ان سے سوال کیا جانا چاہئیے کہ اتنی بات کیسے بڑھ گئی کہ ہر کوئی ایجینسیوں کے کردار پر شور مچانے لگا ہے ۔
میری رائے کے مطابق ، پاکستان کی تمام سیکورٹی اداروں کا کردار بہت مفاہمت والا ہے ۔ جو کہ نہیں ہونا چاہئیے ۔ ان کو ملکی معاملات میں چھپ کر مداخلت کی قطعی ضرورت نہیں ۔ کیونکہ ملک کا دستور انکے کردار کا جو تعین کرتا ہے ، انہیں اس پر بھرپور عمل کرنا چاہئیے ۔ اگر دستور کی کوئی شق انکے راستے کی رکاوٹ ہے تو اس بدلوانا چاہئیے ۔
یہ وطن کی سلامتی کا سوال ہے ۔ ملک لوٹا جا رہا ہے ، قوم گروی پڑ گئی ہے اور واویلا بھی جاری ہے ۔ کون لوگ چیخ رہے ہیں ؟ انکا کردار کیا ہے ؟ صرف یہ بات سمجھ لی جائے تو یہ ساری سازش بی نقاب ہو جاتی ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢٢ جولائی ٢٠١٨
Tuesday, 24 July 2018
ایجیینسیاں اور سیاستدان
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment