Tuesday, 24 July 2018

جسٹس شوکت صدیقی کے نام

" جسٹس شوکت صدیقی کے نام "
محترم شوکت صدیقی صاحب ! اللہ کا شکر ادا کریں کہ آپ عدل کی کرسی پہ بیٹھے ہیں ۔ آپ کا خطاب سننے کا اتفاق ہوا ، جس میں آپ نے بہت کھلے الفاظ میں ، آئی ایس آئی ، چیف جسٹس سپریم کورٹ کو مورد الزام ٹھہرایا کہ عدالتی فیصلے میرٹ پہ نہیں ، بلکہ اداروں کی ایماء پر ہوتے ہیں  ۔ آپ نے فرمایا کہ آپ کو چیف جسٹس ہائیکورٹ بنانے کی پیشکش بھی ہوئی کہ آپ بھی اسی گندے تالاب میں نہا لیں ، جس میں دوسرے عدلیہ کے لوگ نہاتے ہیں ۔ آپ یہ ساری باتیں میڈیا پہ کر رہے ہیں ۔ یوں لگتا ہے کہ آپ کی ملازمت کے دن تھوڑے ہیں اور آپ کو اسکا ادراک بھی ہے ۔ آپ نے پیشتر اس سے کہ آپ کو کسی ریفرنس میں نکال باہر کیا جائے ، اپنی سیاست کی راہ کھول لی ہے ۔ سیاست کا گٹر آپ کو خوش آمدید کہنے والا ہے ۔ پوچھنے کی جسارت کرنا چاہوں گا کہ کیا آپ کی کرسی اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ آپ عدالتی تقدس کو یوں متنازعہ بنا دیں ۔ اگر قوم آپ کی بات پر سیخ پا ہو جاتی ہے تو عدالتوں کا وقار کہاں جائے گا ۔ کیا لا قانونیت کیطرف یہ بلاوا قوم کے حق میں ہوگا ؟ آپ نے ایک ہی وقت میں آئی ایس آئی کے خلاف محاذ کھول دیا ہے ۔ محترم ! اگر آئی ایس آئی ایسے معاملات کے پیچھے ہوتی تو بولنے سے پہلے آپ کی زبان کو فالج ہو چکا ہوتا ۔ آپ کو پتہ ہے کہ آپ کے اس بیان نے وہی کام کیا ہے جو نواز شریف کے بیان کی وجہ سے ملک " گرے لسٹ " میں چلا گیا ۔ نواز شریف تو صرف سیاسی لیڈر ہے اور اسوقت معتوب ہے ، کچھ بھی کہہ سکتا تھا ۔ آپ تو جسٹس ہیں ۔ آپ کے بیان کے مطابق تو انتخابات کا سارا بھرم ہی ٹوٹ گیا ہے ۔ آپ نے پورے سسٹم کو متنازعہ بنا دیا ہے ۔  معلوم نہیں وہ کونسی قابلیت تھی جس بناء پر آپ کو اس اہم کرسی پہ بٹھایا گیا ۔ ملک سے عناد تھا تو کوئی دوسری کرسی منتخب کر لیتے ۔ آپ وکیل تھے ، کیا بتانا پسند کریں گے کہ  کتنے وکیل میرٹ پہ کیس لیتے ہیں ۔ کتنے وکیل جانتے ہوئے کہ جسکا کیس وہ لڑ رہے ہیں ، مجرم ہے ۔ اس کیس کو جیتنے کا ہر حربہ استعمال کرتے ہیں ۔ کیا آپ نے کبھی ایسا نہیں کیا ۔ یہ عدل کی کرسی ہے ، وکالت کی نہیں ۔ عدل کریں ۔ اگر سسٹم غلط ہے تو الگ ہو جائیں ۔ قوم کو گمراہ نہ کریں ۔ آئی ایس آئی ملکی سلامتی کا سب سے متحرک ادارہ ہے ، انہیں وہ کرنا پڑتا ہے جو ملکی سلامتی کیلئے ضروری ہے ۔ اور انکا ہر اقدام کسی فرد واحد کی ایماء پر نہیں ہوتا ۔ پورا سسٹم شامل ہوتا ہے تو ایکشن لیا جاتا ہے ۔ یہ سب قومی راز ہوتے ہیں ۔ آپ کو حق نہیں کہ قومی رازوں پر ہرزہ سرائی شروع کر دیں ۔
آپ کے سامنے بیٹھے وکیل ، یقینی طور پر سیاسی وابستگیوں سے جڑے ہونگے ، جو شیم شیم کہہ کر آپ کو مہمیز کر رہے ہیں ۔ جذبات کا غلبہ عقل کا دشمن ہوتا ہے اور ایسا مغلوب ، عدل کی کرسی کے اہل ہی نہیں ہوتا ۔ آپ کا ماضی آپ کی شخصیت کا عکاس ہے ۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آئی ایس آئی پر بہتان بازی سے آپ ہیرو بن جائیں گے ، تو شاید یہ خواب پورا نہ ہو سکے ۔ چیف جسٹس پر الزام لگاتے وقت ، آپ محکمانہ جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں ۔ اگر یہ ساری باتیں سچ بھی ہیں تو کیا آپ اسکا حل نکال رہے ہیں یا فساد پھیلا رہے ہیں ؟
تعجب ہوا اس سسٹم پر ، جس کی سیڑھی سے چڑھ کر آپ اس کرسی پہ آئے اور اب اسی سسٹم کو کوس رہے ہیں ۔ اپنی قانونی ذمہ داریوں پر نظر دوڑائیں کہ کیا یہ سب کہنے کا آپ کو اختیار بھی ہے کہ نہیں؟
آزاد ھاشمی
٢١ جولائی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment