" جسٹس شوکت صدیقی کے نام "
محترم شوکت صدیقی صاحب ! اللہ کا شکر ادا کریں کہ آپ عدل کی کرسی پہ بیٹھے ہیں ۔ آپ کا خطاب سننے کا اتفاق ہوا ، جس میں آپ نے بہت کھلے الفاظ میں ، آئی ایس آئی ، چیف جسٹس سپریم کورٹ کو مورد الزام ٹھہرایا کہ عدالتی فیصلے میرٹ پہ نہیں ، بلکہ اداروں کی ایماء پر ہوتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ آپ کو چیف جسٹس ہائیکورٹ بنانے کی پیشکش بھی ہوئی کہ آپ بھی اسی گندے تالاب میں نہا لیں ، جس میں دوسرے عدلیہ کے لوگ نہاتے ہیں ۔ آپ یہ ساری باتیں میڈیا پہ کر رہے ہیں ۔ یوں لگتا ہے کہ آپ کی ملازمت کے دن تھوڑے ہیں اور آپ کو اسکا ادراک بھی ہے ۔ آپ نے پیشتر اس سے کہ آپ کو کسی ریفرنس میں نکال باہر کیا جائے ، اپنی سیاست کی راہ کھول لی ہے ۔ سیاست کا گٹر آپ کو خوش آمدید کہنے والا ہے ۔ پوچھنے کی جسارت کرنا چاہوں گا کہ کیا آپ کی کرسی اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ آپ عدالتی تقدس کو یوں متنازعہ بنا دیں ۔ اگر قوم آپ کی بات پر سیخ پا ہو جاتی ہے تو عدالتوں کا وقار کہاں جائے گا ۔ کیا لا قانونیت کیطرف یہ بلاوا قوم کے حق میں ہوگا ؟ آپ نے ایک ہی وقت میں آئی ایس آئی کے خلاف محاذ کھول دیا ہے ۔ محترم ! اگر آئی ایس آئی ایسے معاملات کے پیچھے ہوتی تو بولنے سے پہلے آپ کی زبان کو فالج ہو چکا ہوتا ۔ آپ کو پتہ ہے کہ آپ کے اس بیان نے وہی کام کیا ہے جو نواز شریف کے بیان کی وجہ سے ملک " گرے لسٹ " میں چلا گیا ۔ نواز شریف تو صرف سیاسی لیڈر ہے اور اسوقت معتوب ہے ، کچھ بھی کہہ سکتا تھا ۔ آپ تو جسٹس ہیں ۔ آپ کے بیان کے مطابق تو انتخابات کا سارا بھرم ہی ٹوٹ گیا ہے ۔ آپ نے پورے سسٹم کو متنازعہ بنا دیا ہے ۔ معلوم نہیں وہ کونسی قابلیت تھی جس بناء پر آپ کو اس اہم کرسی پہ بٹھایا گیا ۔ ملک سے عناد تھا تو کوئی دوسری کرسی منتخب کر لیتے ۔ آپ وکیل تھے ، کیا بتانا پسند کریں گے کہ کتنے وکیل میرٹ پہ کیس لیتے ہیں ۔ کتنے وکیل جانتے ہوئے کہ جسکا کیس وہ لڑ رہے ہیں ، مجرم ہے ۔ اس کیس کو جیتنے کا ہر حربہ استعمال کرتے ہیں ۔ کیا آپ نے کبھی ایسا نہیں کیا ۔ یہ عدل کی کرسی ہے ، وکالت کی نہیں ۔ عدل کریں ۔ اگر سسٹم غلط ہے تو الگ ہو جائیں ۔ قوم کو گمراہ نہ کریں ۔ آئی ایس آئی ملکی سلامتی کا سب سے متحرک ادارہ ہے ، انہیں وہ کرنا پڑتا ہے جو ملکی سلامتی کیلئے ضروری ہے ۔ اور انکا ہر اقدام کسی فرد واحد کی ایماء پر نہیں ہوتا ۔ پورا سسٹم شامل ہوتا ہے تو ایکشن لیا جاتا ہے ۔ یہ سب قومی راز ہوتے ہیں ۔ آپ کو حق نہیں کہ قومی رازوں پر ہرزہ سرائی شروع کر دیں ۔
آپ کے سامنے بیٹھے وکیل ، یقینی طور پر سیاسی وابستگیوں سے جڑے ہونگے ، جو شیم شیم کہہ کر آپ کو مہمیز کر رہے ہیں ۔ جذبات کا غلبہ عقل کا دشمن ہوتا ہے اور ایسا مغلوب ، عدل کی کرسی کے اہل ہی نہیں ہوتا ۔ آپ کا ماضی آپ کی شخصیت کا عکاس ہے ۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آئی ایس آئی پر بہتان بازی سے آپ ہیرو بن جائیں گے ، تو شاید یہ خواب پورا نہ ہو سکے ۔ چیف جسٹس پر الزام لگاتے وقت ، آپ محکمانہ جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں ۔ اگر یہ ساری باتیں سچ بھی ہیں تو کیا آپ اسکا حل نکال رہے ہیں یا فساد پھیلا رہے ہیں ؟
تعجب ہوا اس سسٹم پر ، جس کی سیڑھی سے چڑھ کر آپ اس کرسی پہ آئے اور اب اسی سسٹم کو کوس رہے ہیں ۔ اپنی قانونی ذمہ داریوں پر نظر دوڑائیں کہ کیا یہ سب کہنے کا آپ کو اختیار بھی ہے کہ نہیں؟
آزاد ھاشمی
٢١ جولائی ٢٠١٨
Tuesday, 24 July 2018
جسٹس شوکت صدیقی کے نام
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment