" معاشی حماقتیں "
بہت بڑے بڑے معیشت دان اپنی سر توڑ کوششوں کے باوجود ناکام ہی رہے اور اسوقت تک ناکام ہی رہیں گے ، جب تک معیشت میں رائج حماقتوں سے گریز نہیں کیا جاتا ہے ۔
کسی گھر کا بجٹ اسوقت تک بہتر نہیں ہوتا جب تک ذرائع آمدن ضروریات کے ساتھ متوازن نہ ہوں ۔ اگر آمدن کم ہے تو اخراجات کو کم رکھنا پڑتا ہے ، تعیش کو چھوڑ کر ضروریات اور پھر ضروریات کی درجہ بندی ضروری ہو جاتی ہے ۔ اگر ضروریات پر قابو نہ پایا جا سکے تو آمدن بڑھانا لازمی ہے ۔ یہ عام سا اصول ہر گھر کا سربراہ اچھی طرح سمجھتا ہے ۔
تعجب ہے کہ معاشیات کے" سقراط ، افلاطون ، بقراط " سب کے سب اس اصول کو کیوں نہیں سمجھتے ۔ بہت عام سا حل نکال لیتے ہیں کہ ٹیکس کا کوئی نیا کھاتہ کھول لیا جائے اور شروع سے آج تک یہی ہوتا چلا آرہا ہے ۔ ٹیکس کی بھرمار ہے ، ذرائع اور وسائل جوں کے توں پڑے ہیں ۔ ان پر کبھی توجہ نہیں کی گئی ۔ کیوں ؟ اسکا جواب نہ پہلے حکمران دے سکے اور نہ موجودہ کے پاس اس کا جواب ہے ۔ سب حکمران یہی کہتے ہیں ۔
"پوری دنیا میں ٹیکس لیا جاتا ہے "
یہ وہ دلیل ہے جس سے قوم پر دباو برقرار رکھا ہوا ہے ۔ درست ہے کہ قومی ضروریات کیلئے پوری دنیا میں ٹیکس کا طریقہ نافذ ہے ، مگر یہ کبھی نہیں بتایا جاتا کہ پوری دنیا میں ٹیکس کا استعمال کیا ہے ؟ یہ تمام ٹیکس عوام کی سہولیات پر خرچ ہوتے ہیں یا ایسے ترقیاتی منصوبے بنائے جاتے ہیں جو عوام کیلئے از حد ضروری ہوں ۔ مگر ہمارے حکمران آج تک یہ ٹیکس " عیاشی " پر خرچ کر رہے ہیں اور ملکی ضروریات کیلئے قرضے کا کشکول گھماتے رہتے ہیں ۔ بے شرمی کی انتہا ہے کہ اگر بین الاقوامی مالیاتی ادارے قرض دے دیں تو بغلیں بجائی جاتی ہیں ، اسے وزارت خزانہ کی کامیابی کہا جاتا ہے ۔ یہ کبھی نہیں بتایا جاتا کہ یہ ملنے والا قرضہ کن شرائط پر ملتا ہے ۔ یہ قرضہ کبھی یکمشت نہیں ملتا ، بلکہ کم از کم تین اقساط میں ملتا ۔ پہلی قسط پر سود کاٹ لیا جاتا ہے ۔ دوسری قسط کیلئے پرانے قرضوں کے سود کا تقاضا کیا جاتا ہے اور عام حالات میں وہ بھی کاٹ لیا جاتا ہے ۔ تیسری قسط میں شرائط رکھ دی جاتی ہیں کہ اگر ترقیاتی مقاصد کیلئے استعمال کیا جائے تو کم از کم نصف انفرا سٹرکچر پر خرچ ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں ضروری اور غیر ضروری انفرا سٹرکچر بنانے پڑے ۔ قوم اسی دلدل میں رہی جس میں پہلے تھی ۔ یہ قرض خواہ ایک شرط یہ بھی لگاتے ہیں کہ بجلی ، پانی اور اہم اشیائے ضرورت پر ٹیکس بڑھائے جائیں ۔ یہ ٹیکس بڑھانے سے برآمدات کی قیمتیں بین الاقوامی منڈیوں میں پٹ جاتی ہیں ۔ اگر ہم بغور جائزہ لیں تو اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ قرضے کی اس دلدل نے ہمیں برآمدات کے میدان سے نکال باہر کیا ہے اور صنعت قریب المرگ ہے ۔
کیا تعجب نہیں کی ملکی وسائل میں معدنیات ، زراعت ، صنعت ، تجارت ، ہنر مندی اور عوامی قابلیت کو استعمال کرنے کی طرف قطعی توجہ نہیں دی گئی اور نہ دی جا رہی ہے ۔
ہنر مندی اور تجارت سے بھارت کثیر زر مبادلہ کما رہا ہے ، جبکہ ہم ان دونوں میدان میں عدم توجہ کا شکار ہیں ۔ بھارت کی زرعی زمین اور ہماری زرعی زمیں دونوں ایک طرح کی ہیں ، وہ اپنی تمام خوردنی ضروریات پوری بھی کر رہے ہیں اور برآمد بھی ۔ ہم ٹماٹر ، پیاز ، آلو ، لہسن اور دالیں تک درآمد کرتے ہیں ۔ کیا ہمارا کسان بھارت کے کسان کا ہم پلہ نہیں ؟
ہماری درآمدات میں سامان تعیش پر بیشمار زر مبادلہ لٹا دیا جاتا ہے اور ملکی مصنوعات کو ناکام کرنے کا ہر حربہ اپنایا جاتا ہے ۔
ہماری معیشت پر ایک بڑا بوجھ ، بے ہنگم ادارے اور انکو دی جانے والی مراعات بھی ہیں ۔ ان اداروں میں سے بیشمار اہلیت کی بد ترین سطح پر ہیں ۔ جیسے پولیس اپنے فرائض پر کم اور رشوت پر زیادہ متوجہ ہے ۔ جیسے ہی امن و امان کی صورت پیدا ہوتی ہے ، پولیس بیکار نظر آتی ہے اور فوج کی مدد طلب کی جاتی ہے اگر پولیس امن و امان برقرار نہیں رکھ سکتی تو ایک ظفر فوج کی کیا ضرورت ہے ؟ ایسے اور بھی بیشمار ادارے ہیں ، جو کرپشن کی ابتداء کرتے ہیں اور یہ زہر قوم کی رگوں میں تسلسل سے اتارتے رہتے ہیں ۔
ان سب سے زیادہ اور بڑا بوجھ ہمارے حکمران ، پارلیمنٹ ، وزراء ، سفارتخانے اور انتخابی ڈھونگ ہے ۔ ہر پانچ سال بعد ، اربوں روپیہ انتخابات کی نظر ہو رہا ہے ۔ ہر پانچ سال بعد ، نئے وزراء کے بنگلوں کی نئی تزین و آرائش ہوتی ہے ۔ قصر صدارت میں گھوڑے رکھے جائیں ، بھینسیں پالی جائیں ، رقص و سرود کی محفلیں سجائی جائیں ، دوستوں کی دعوت کی جائے ، شعر وشاعری کا شوق پورا کیا جائے ۔ اسی طرح گورنرز ، وزراء اعلیٰ ، وزیراعظم ، دیگر وزراء سب کے سب یہ عیاشیاں قوم کے ٹیکس سے پوری کرتے ہیں ۔ یہ کروڑوں کی بات نہیں اربوں کی کہانی ہے ۔
حماقت کی عجیب شکل ہے کہ شاید ہی کوئی وزیر ایسا ہو ، جو اپنے محکمے کے بارے میں عبور رکھتا ہو ۔ پارلیمنٹ قانون سازی کیلئے ہوتی ہے ، پارلیمنٹ میں کتنے ہیں جو قانون اور قانونی پیچیدگیاں جانتے ہیں ؟
یہ سارا بوجھ ، ہمارے ٹیکس ہڑپ کرنے کیلئے کافی ہے ۔ اب وہ کونسا " معجزہ " ہے جو ہماری معیشت کو درست کر دے گا ۔
آزاد ھاشمی
٢٣ اپریل ٢٠١٩
Thursday, 25 April 2019
معاشی حماقتیں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment