اجتماعی زیادتی کے واقعات
اجتماعی زیادتی کے واقعات ایک معمول سا بنتا
جا رہا ہے - ایسے تمام سانحات کے پیچھے اکثر با اثر شخصیات کے , رزق حرام پہ پلے
ہوۓ اوباش نوجوان ہوتے ہیں - جنہیں نہ قانون ہاتھ ڈالتا ہے اور نہ ہی حفظ و امان
کے زمہدار ادارے -
جب سزا کا خوف ہی نہ ہو , تو ایسے گھناونے
واقعات معمول بن جاتے ہیں - جب کبھی عوام کی طرف سے احتجاج کا خوف ہو تو حکمران
متاثرہ خاندان کی اشک شوئی کے لئے چلے جاتے ہیں - کڑی سے کڑی سزا کا اعلان
ہو جاتا ہے کہانی ختم -
عوام کی عزت , جان اور مال کی حفاظت حکمرانوں
کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے - جو حکمران یہ بنیادی ذمہ داری پوری نہیں کر سکتا ,
اسے اخلاقی طور پر اپنا منصب چھوڑ دینا چاہیے - جو متعلقه اہلکار ہے- اسے ارتکاب
جرم میں شریک قرار دے کر سزا ملنی چاہیے - اور یہ سزا سر عام ہونی چاہیے -
یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ ایسے واقعات مکمل طور پر رک جایں گے - یہ معاشرتی مسلہ
اگر سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو پھر آنے والے وقت میں کوئی عزت محفوظ نہیں رہے گی -
جو ظلم آج امراء کے اوباش بچے کر رہے ہیں , وہی ظلم انتقام کی شکل میں
غریبوں کے بچے ان امراء کے محلوں میں کریں گے -
ظلم کی نگہبانی کرنے والے ہمیشہ خود اس سے بد
تر ظلم کا شکار بنتے ہیں - اسکی تاریخ گواہی دیتی ہے -
اور وہ دن دور نہیں -
ہمیں اپنی بہن بیٹیوں کی حفاظت کا فریضہ جہاد
سمجھ کرنا چاہیے -
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment