|
" آنکھیں بھیگ لینے دو "
رونا کسی بھی دور میں نہ معیوب تھا نہ گناہ ۔ اللہ کو خشوع کی عبادت ، عمومی عبادت سے کہیں زیادہ پسندیدہ ہے ۔ اللہ کی رضا پانے کے لیے اللہ کے مقبول بندوں کا رونا معمول رہتا ہے ۔ یہ کبھی ممکن نہیں کہ جب تک دل اور روح میں احساس غم نہ ہو ، رویا جا سکے ۔ رونے سے انسان کے احساس کی نزاکت کا پتہ بھی چلتا ہے اور تعلق کی گہرائی بھی عیاں ھوتی ہے ۔ رشتوں کی لگن کے بغیر پلکیں کبھی نہیں بھیگا کرتیں ۔ کربلا کے ایک ایک لمحے کو اپنی ذات پر معکوس کر کے دیکھیں ، تو یقیناً ہر آنکھ برسنے لگے گی ۔ شرط صرف اتنی ہے کہ دل ، دماغ اور روح حب اہل بیت سے خالی نہ ہو ۔ شرط صرف یہ ہے کہ دل حب یزید سے خالی ہو ۔ شرط صرف اتنی ہے کہ مسالک کی پٹی آنکھوں پہ نہ بندھی ہو ۔ شرط صرف اتنی ہے کہ تاریخ کے وہ حوالے از بر نہ ہوں جو اموی اور عباسی دور میں گھڑے گئے ۔ شرط صرف اتنی ہے کہ بے سود فلسفہ اور منطق آڑے نہ آئے . شرط صرف اتنی ہے کہ آل رسول کے در پہ قبولیت ملے ۔ شرط صرف اتنی ہے کہ شیطنت سے وابستگی نہ ہو ۔ پھر کربلا کا دن بھی یاد آئے گا ۔ کربلا کے مظلوم بھی یاد آئیں گے ۔ پھر آنکھ اس غم میں بھیگے تو بھیگنے دو ۔ شکریہ آزاد ھاشمی |
|
Friday, 27 January 2017
آنکھیں بھیگ لینے دو
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment