Friday, 27 January 2017

آنکھیں بھیگ لینے دو


" آنکھیں بھیگ لینے دو "
رونا کسی بھی دور میں نہ معیوب تھا نہ گناہ ۔ اللہ کو خشوع کی عبادت ، عمومی عبادت سے کہیں زیادہ پسندیدہ ہے ۔ اللہ کی رضا پانے کے لیے اللہ کے مقبول بندوں کا رونا معمول رہتا ہے ۔ 
یہ کبھی ممکن نہیں کہ جب تک دل اور روح میں احساس غم نہ ہو ، رویا جا سکے ۔ رونے سے انسان کے احساس کی نزاکت کا پتہ بھی چلتا ہے اور تعلق کی گہرائی بھی عیاں ھوتی ہے ۔ رشتوں کی لگن کے بغیر پلکیں کبھی نہیں بھیگا کرتیں ۔ 
کربلا کے ایک ایک لمحے کو اپنی ذات پر معکوس کر کے دیکھیں ، تو یقیناً ہر آنکھ برسنے لگے گی ۔
  شرط صرف اتنی ہے کہ دل ، دماغ اور روح حب اہل بیت سے خالی نہ ہو ۔
شرط صرف یہ ہے کہ دل حب یزید سے خالی ہو ۔
شرط صرف اتنی ہے کہ مسالک کی پٹی آنکھوں پہ نہ بندھی ہو ۔
شرط صرف اتنی ہے کہ تاریخ کے وہ حوالے از بر نہ ہوں جو اموی اور عباسی دور میں گھڑے گئے ۔
شرط صرف اتنی ہے کہ بے سود فلسفہ اور منطق آڑے نہ آئے .
شرط صرف اتنی ہے کہ آل رسول کے در پہ قبولیت ملے ۔
شرط صرف اتنی ہے کہ شیطنت سے وابستگی نہ ہو ۔
پھر کربلا کا دن بھی یاد آئے گا ۔ کربلا کے مظلوم بھی یاد آئیں گے ۔ پھر آنکھ اس غم میں بھیگے تو بھیگنے دو ۔
شکریہ 
آزاد ھاشمی




No comments:

Post a Comment