اکمل عباس
|
وہ خوشی کے عالم میں نیم پاگل ہو
گیا تھا - ہر کسی کی طرف دیکھتا اور توقع کرتا کہ ہر کوئی اسے مبارک کہے - اسکے
بیٹے نے زندگی کی کامیابی کی پہلی سیڑھی پہ قدم رکھا تھا - وہ خواب جو اسنے اپنے
لئے دیکھے تھے اسکی اولاد پورے کر رہی تھی - یہ الله کا وہ انعام تھا جو اسکی
زندگی میں اسے مل رہا تھا - وہ لفظ اسکے دل کی آواز تھی جو وہ اپنے بچوں کو
پہنچا رہا تھا -
" بیٹا میری زندگی کی کتاب کے آخری اوراق شروع ہو چکے ہیں , نہ جانے کب وقت کا بلاوا آ جاے - بیٹا میں تم سے کچھ قرض لینا چاہتا ہوں جو میری اگلی زندگی میں کام آئیگا - وہ قرض یہ ہے کہ اپنی زندگی میں کوئی فرض مت چھوڑنا , وہ فرض الله کی طرف سے ہو یا وطن کیطرف سے - اولاد کا ہو یا والدین کا , ماں کا ہو یا بیوی کا , بہن کا ہو یا بھائی کا , کسی غریب کا ہو یا کسی یتیم کا - الله نے جو جو صلاحیت سے نوازے اسے الله کی رضا کے مطابق استعمال کرنا - یہ سب انعامات تمہاری قابلیت کے طفیل نہیں- اترا مت جانا - مظلوم کی آواز پہ کبھی پیٹھ مت پھیرنا اور ظالم کا ہاتھ مروڑنے پہ دیر مت کرنا - جو دروازے پہ سوال لے کے آ جاے اسے خالی مت لوٹانا - حقوق الله لازم ہیں تو حقوق العباد بھی مقدم ہیں - تمہارا یہ ادھار میری بخشش بنے گا " نم آلود آنکھیں اور دھڑکنوں میں ہنگامہ اسکی خوشی کا غماز تھا - الله سے ملنے والے انعامات سب بے مول تھے - شکریہ آزاد ہاشمی |
|
No comments:
Post a Comment