Monday, 18 February 2019

کشمیر کا جھگڑا

" کشمیر کا جھگڑا "
کسی بھی معاملے کو اسکے اصلی تناظر میں پیش کر دیا جائے تو اسکا حل آسان ہو جاتا ہے ۔ جب پاکستان اور بھارت کی تقسیم ہوئی تو اسکے کچھ اصول اور قواعد و ضوابط وضع ہوئے ۔ جن میں ایک یہ تھا کہ مسلمان اکثریت کے علاقے پاکستان سے ملحق ہونگے اور ہندو اکثریت کے علاقے بھارت کا حصہ ہونگے ۔ مشرقی پاکستان اسی اصول کے تحت پاکستان کا حصہ بنا ۔ ایک رائے یہ بھی تھی کہ اگر کسی ریاست کے لوگ اکثریت سے چاہیں تو استصواب رائے کا حق ہو گا ۔ انہی اصولوں پر بر صغیر کی تقسیم ہوئی ۔ بھارت نے کشمیر کے راجہ سے ملکر معاملہ متنازعہ کر دیا ۔ سیاسی اور سفارتی طور پر ، یہ ایک معاملہ عالمی سطح کا ہے ، اور عالمی قانون کے مطابق کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق ہے ۔ ہندو کے شاطر ذہن نے اس ملک کو بھارت اور پاکستان کا متنازعہ معاملہ بنا کر رکھ دیا ۔ ہماری کم عقلی ہے کہ ہم نے بھی بھارت کی اس چالاکی میں اپنی ہاں شامل کر دی کہ یہ جھگڑا پاکستان اور بھارت کا ہے ۔ حالانکہ کہ یہ اصل چپقلش کشمیریوں کے بنیادی حقوق کی ہے اور کشمیریوں کی آزادی کی ہے  ۔ اور عالمی قانون کے مطابق انہیں یہ حق ہے کہ وہ جیسے رہنا چاہیں ،  انہیں ویسی آزادی دے دی جائے ۔ ان پر کوئی جبر روا نہ رکھا جائے ۔ ان کو یہ حق دلوانے میں آسان ہو جاتا کہ اسے پاکستان اور بھارت کے تنازعہ کے تناظر سے نکال کر عالمی سطح کا تنازعہ بنا دیا جاتا ۔ ہماری سفارتی نا اہلی ہے کہ ہم نے گھسیٹ کر بال اپنے کورٹ میں ڈال رکھی ہے ،جبکہ آزاد کشمیر کا اپنا صدر ہے ،  اپنی پارلیمنٹ ہے ،  اپنا وزیر اعظم ہے گویا وہ ایک آزاد ریاست ہے ، پھر مقبوضہ کشمیر میں ایسی صورت حال کیوں نہیں ۔ اگر یہ عالمی تنازعہ بنا لیا جاتا  تو اقوام متحدہ اس معاملے کو اسقدر لٹکا  نہیں سکتی تھی اور اب تک حل ہو چکا ہوتا ۔  اگر اب بھی سفارتی طور پر رائے شماری کی راہ ہموار ہو جائے تو یہ رائے یقینی طور پر " استصواب رائے " کے حق میں ہوگی ۔  مسلم ممالک تو اسکے حق میں  ہی ہونگے اور بہت سارے دیگر ممالک بھی کشمیر کے بنیادی حق کو تسلیم کرنے میں معاونت کریں گے ۔ بغیر کسی مزید جنگ و جدل کے کشمیر کی آزادی یقینی ہے کیونکہ آدھا کشمیر پہلے ہی آزاد شکل سے اپنے سیاسی اور پارلیمانی معاملات میں خود مختار ہے ۔ جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا صوبائی طرز حکومت ہے ۔ جو ہر حال میں غیر فطری ہے ۔ اسوقت جو صورت حال ہے اور جبر و تشدد کی جو لہر ہے ، کشمیری اپنی آزادی کیلئے جو بھی کر رہے ہیں ، بھارت حسب معمول اسے پاکستان سے مخاصمت کیطرف کھینچ رہا ہے تاکہ معاملات لٹکے رہیں ، اسے کشمیر کی حریت پسندی سے نکال کر سازش بنا دیا جائے ۔ اگر اس معاملے میں عرب ممالک اور دیگر مسلم ممالک اپنا سفارتی اثر و رسوخ استعمال کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ اقوام متحدہ اسے التوا میں ڈالے ۔
آزاد ھاشمی
١٧ فروری ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment