Monday, 18 February 2019

کرکٹ اور حکومت دو الگ میدان ہیں

" کرکٹ اور حکومت دو الگ میدان ہیں "
ہمارے محترم وزیراعظم ابھی تک اسی زعم میں پھنسے ہوئے ہیں کہ انہوں نے مشکل ترین حالات میں ١٩٩٢  میں قوم کو ورلڈ کپ لا کر دیا ۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ورلڈ کپ میں انکے ساتھ ایک متوازن ٹیم تھی اور یہ ٹیم تیار کرنے میں بہت سارے دوسرے لوگ اور عوامل بھی شامل تھے ۔ اب حکومتی معاملات میں انکی ٹیم میں اکثریت مخبوط الحواس اور جھگڑالو لوگوں کی ہے ۔  انہیں معلوم ہی نہیں کہ دس بارہ کھلاڑیوں پر کنٹرول اور بیس بائیس کروڑ عوام پر کنٹرول میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ انہیں زعم ہے کہ وہ اپنی مرضی سے گیند گھمانے کے ماہر ہیں مگر یہ نہیں جانتے کہ معیشت کی گیند بہت مختلف ہے ، یہ دو انگلیوں سے نہیں گھومتی ، اس میں بہت جتن کرنے پڑتے ہیں ۔ وہ ایک ہسپتال اور ایک یونیورسٹی بنا کر سمجھ بیٹھے ہیں کہ حب الوطنی کیلئے یہ بہت کافی ہے ۔ اب انہیں پاکستان میں اپنے سے زیادہ کوئی حب الوطن دکھائی ہی نہیں دیتا ۔ ورلڈ کپ ، ہسپتال اور یونیورسٹی نے انہیں تکبر اور رعونت کا مریض بنا ڈالا ہے ۔ میاں برادران اور زرداری فوبیا انکے ذہن میں اسقدر سوار ہو گیا کہ انہیں  دوسرا کچھ یاد نہیں ۔ محترم بھول جاتے ہیں کہ کرپشن کرنے والے ثبوت نہیں چھوڑا کرتے ۔ رہی بیرون ملک جائیداد تو اس پر نہ ہمارا قانون لاگو ہے اور نہ دستور میں لکھا گیا ہے کہ کسی صاحب اقتدار کی اولاد جائیداد نہیں بنا سکتی ۔ یہ وقتی کھیل ہے جو ایک جسٹس نے شروع کیا اور کوئی دوسرا جسٹس اسے بند کر دے گا ۔ جیسے میمو گیٹ بند ہو گیا ہے ۔ اگر یہی روایت چلتی رہی تو جب دوسری حکومت آئی وہ بھی ایک فائل کھول دے گی کہ آپ نے یونیورسٹی اور ہسپتال کیسے بنایا ، پیسہ کہاں سے آیا اور کس نے دیا ۔ جب پنڈورا بکس کھلے گا تو یہ پیسہ کسی عیسائی یا یہودی سے جڑ جائے گا ۔ ثابت کیا جائے گا کہ آپ کسی عیسائی یا یہودی کے ایجنٹ تھے ۔ یہ دھما چوکڑی جاری رہے گی اور قوم آپ لیڈروں کی حماقتوں کی سزا بھگتتی رہے گی ۔
آپ کے پاس وقت نہیں کہ ملکی وسائل پر توجہ کریں ، اللہ نے معدنیات کی صورت میں جو خزانے عطا کر رکھے ہیں ، انکا استعمال سوچیں ۔ مہنگائی کا جن بے قابو ہے اس پر غور کریں ۔ کسان کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے ، اسکا حل نکالیں ، صنعت برباد ہے اسے کارآمد بنائیں ۔ فساد اور مخالفین کی شلواریں اتارنا ، وزیراعظم کو زیب نہیں دیتا ۔ دوسرے ممالک سے امداد مانگنے ، قرضہ لے لینے اور چندہ اکٹھا کرنے کا عمل ایک دن رک جائے گا ۔ یہ منصوبہ سازی کریں کہ اسوقت کیا ہوگا جب لوگ نہ چندہ دیں گے ، نہ امداد اور نہ قرض ۔ آپ اپنی کیبنٹ میں ، دوسرے ممالک کے دوروں پر اور میڈیا پر ایک ہی کہانی چھیڑے رکھتے ہیں کہ
" میں  ان سب کو نہیں چھوڑوں گا ۔ میرا قوم سے وعدہ ہے "
قوم سے اور بھی بہت سے وعدے تھے ، جو نہ آپ کو یاد رہے اور شاید ایک روز قوم بھی بھول جائے گی ۔ اب کرکٹ کھیلنا بند کردیں ۔ ملک کے وزیراعظم  اور قوم کے رہنما بن کر سوچیں ۔ زرداری اور میاں برادران کو بھی اپنی قوم کا حصہ سمجھ کر عدالتوں میں قانون کے مطابق برتاو کریں ۔
آزاد ھاشمی
١٥ فروری ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment