" دستور سے کھلواڑ "
دستور میں ایک وضاحت کا تذکرہ ہو چکا کہ ہر وہ شخص جو " نظریہ پاکستان " کا مخالف ہے وہ پارلیمنٹ کے اہل نہیں ۔ اس شرط کے ساتھ کتنے نا اہل ہیں جو ١٩٧٣ سے آج تک کی اسمبلیوں بیٹھتے بھی رہے ، مراعات سے استفادہ بھی کرتے رہے , نہ دستور نے پوچھا نہ عوام کو خبر ہوئی ۔ در اصل قوم کے مجرم وہ ہیں ، جو ان " نظریہ پاکستان " کے مخالفین کے ساتھ بیٹھتے بھی رہے اور انکو ملنے والی مراعات پر خاموش بھی رہے ۔ اسکے علاوہ اس جرم میں الیکشن کمیشن ،عدالت عالیہ اور دیگر تمام حکمران شامل ہیں ، جنہوں نے دستور شکنی پر مصالحت کی ۔ دستور میں واضع طور پر لکھا ہے کہ ہر وہ شخص بھی نا اہل ہے جو
" سمجھدار اور پارسا نہ ہو "
"فاسق ہو ، امین نہ ہو "
" اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم نہ رکھتا ہو "
" اسلام کے مقرر کردہ فرائض کا پابند نہ ہو"
" کبیرہ گناہوں سے مجتنب نہ ہو "
" اچھے کردار کا حامل نہ ہو "
"احکام اسلام سے انحراف میں مشہور ہو "
یہ پیمانہ دستور نے بنا رکھا ہے اور اب اس پیمانے پر پرکھنے کا آغاز کیا جائے ، تو پارلیمنٹ کے تقدس کو برقرار رکھنا ، کسی طور ممکن نہیں ۔ کسی ممبر کے سمجھدار ہونے سے یہ مراد نہیں لی جا سکتی کہ وہ بہت عقلمند ہو ، پارلیمنٹ میں سمجھداری کا مفہوم یہ ہے کہ وہ قانون سازی کے سارے تقاضوں سے کما حقہ آشنا ہو ۔ اگر اس شرط کو معیار بنا لیا جائے ، تو شاید سینکڑوں کی اس پٹاری میں دس بیس سے زیادہ نہیں نکلیں گے ، جن کو سمجھدار کہا جا سکتا ہو ۔ پارسائی کے حوالے سے گذشتہ کئی حکومتوں میں کردار پر ہونے والی بحث کو دیکھا جائے تو شاید یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ اکثریت پارسائی کی حدوں سے بہت دور ہے ۔ اس سے بڑی خیانت کیا ہو گی کہ دستور کے ساتھ جھوٹ بولا جائے تو ایسے لوگوں کو امین کیسے کہا جا سکتا ہے ۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ دستور کی شرائط پر پورے نہیں اترتے ، پھر بھی ہر انتخاب میں ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیا جاتا ہے کہ سیٹ مل جائے اور سالہا سال پارلیمنٹ کی کرسیوں پر براجمان رہا جائے ۔ کتنے ہیں جو اسلام کی تعلیمات سے اگاہ ہیں ۔ کتنے ہیں جو گناہ کبیرہ کے مرتکب نہیں ۔ گناہ کبیرہ کو " زنا اور شراب " تک محدود نہیں کیا جا سکتا ۔ سود بھی گناہ کبیرہ ہے ، کسی کی حق تلفی بھی گناہ کبیرہ ہے ، نماز سے ارادی طور پر پہلو تہی کرنا بھی گناہ ہے ، تہمت اور بہتان بازی بھی گناہ ہے ۔ اسلام کے نافذ کردہ فرائض میں ، نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰة ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی شامل ہیں ۔ کتنے ہیں جو ان نافذ کردہ فرائض کو پابندی سے ادا کرتے ہیں ۔
جس جگہ پر دستور شکن اکٹھے ہو کر بیٹھ جائیں ، ایک محب وطن کیلئے وہ جگہ مقدس رہے گی ؟ ہر گز نہیں ۔ جہاں سب دستور شکن بیٹھے ہونگے ، ان سے کس مستند قانون سازی کی توقع کی جا سکتی ہے؟
کیا بڑے بڑے قانون دان ، بڑے بڑے دانشور ، بڑے بڑے علماء ، میڈیا کے شہنشاہ ، تجزیہ نگار ، دستور کی ان بنیادی شقوق سے اگاہ نہیں ؟ پھر دستور شکن کون ہے ؟
کونسا حکمران آیا ، جو دستور کی ان بنیادی شرائط پہ پورا اترا ؟ پھر انتہائی ڈھٹائی سے کہا جاتا ہے کہ ہم وہی کریں گے جو دستور کہتا ہے ۔ پھر یہ بھی تقاضا کیا جاتا ہے کہ پارلیمنٹ کے فیصلوں اولیت دی جائے ۔ کیسے ممکن ہے ۔
آزاد ھاشمی
١٤ فروری ٢٠١٨
Monday, 18 February 2019
دستور سے کھلواڑ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment