Monday, 18 February 2019

دستور میں کیا لکھا ہے؟

" دستور میں کیا لکھا ہے ؟ "
ایک دستور کی کتاب کے تحت ١٩٧١ میں ہم نے اپنے وطن کے دو ٹکڑے ہوتے دیکھے ۔ اسلئے کہ جو حدود متعین کی تھیں ان پر عمل نہیں کیا گیا تھا ۔ وہ لوگ جو پاکستان کے قیام میں ہراول دستہ تھے ، وہی لوگ پاکستان کے دشمن ہوگئے ۔
محبان وطن ، دشمنان وطن کیوں ہوئے ، اسی لئے کہ ہم نے اپنے حقوق لا متناہی کردئیے اور اپنے مخلص بھائیوں کے حق پر ڈاکے ڈالے ۔  پھر نئی کتاب کی ضرورت تھی ، وطن چلانے کیلئے نئی حدیں قائم کرنا مقصود تھیں ۔ دستور کے بغیر ملک کیسے چلے گا ، یہ اہم ضرورت تھی کیونکہ اب پاکستان کا دوسرا جنم تھا ۔ اور یہ بچہ دوسال کا ہو چکا تھا ۔ ١٩٧٣ میں پھر ، کچھ ذہین و فطین ، کچھ لچے لفنگے ، کچھ جاگیر دار ، کچھ ذانی شرابی ، کچھ پڑھے لکھے اور کچھ انگوٹھا چھاپ مل کر بیٹھ گئے کہ حدود قائم کر لی جائیں , دستور بنا لیا جائے ۔ ان میں کچھ علماء بھی تھے ۔ جو جانتے تھے کہ مسلمان کا دستور تو چودہ سو سال پہلے طے ہو چکا ۔ مگر وہ عالم کم اور سیاستدان زیادہ تھے ۔ بس اس پر ہی راضی ہوگئے کہ ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھ لو ۔ اسلام اور قرآن کی ایک آدھ شق شروع میں رکھ دو ۔ ملک کے سربراہ کیلئے مسلمان ہونا لازم قرار دے دو ، بس دستور اسلامی ہو گیا ۔ اور ملک اسلامی ہو گیا ۔ اس سے آگے نہ انکی سوچ تھی اور نہ دلچسپی ۔
پھر دستور لکھا گیا اور ہم نے نعرے لگائے کہ حاکم وقت نے وطن کی راہیں متعین کر دیں ۔ دستور کی کتاب متبرک کتاب بن گئی ، اب دستور کے خلاف ایک لفظ بھی بولنا ، جرم ہو گیا ۔
درست ہے کہ کسی بھی سفر سے پہلے راہ کا تعین ہو جائے تو سفر آسان ہو جاتا ہے ۔ دستور وہی راہ ہے جس پر ہم نے سفر جاری رکھنا تھا ۔ مگر وہی کچھ دوبارہ سے جاری ہو گیا کہ ہمارے کئی بھائی اپنے حقوق کیلئے چیخ چلا رہے ہیں مگر کوئی نہ سنتا ہے اور نہ توجہ دیتا ہے ۔ احساس محرومی کی وہی کیفیت پہلے کی طرح جنم لے چکی ہے ۔ عوام کو فرائض کا سبق پڑھایا جاتا ، حقوق کی بات نہیں ہوتی ۔ دستور میں جو لکھا ہے ، اس پر شاذ ہی عمل ہوتا ہو گا ،  اگر ہوتا ہے تو نظر نہیں آتا ۔  آئیے دستور کو ملاحظہ کرتے ہیں اور جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ :
دستور میں کہاں لکھا ہے کہ پولیس والا جسے چاہے مشق ستم بنا لے ۔
کہاں لکھا ہے کہ سیکورٹی ادارے جسے چاہیں گولیوں سے بھون ڈالیں ۔
کہاں لکھا ہے کہ عدالتیں قانون سے ہٹ کر صوابدیدی اختیارات کو اپنا شعار بنا لیں ۔ کہاں لکھا ہے کہ سرکاری لوگ ترقی کے نام پر لیا جانے والا ٹیکس اپنی عیاشیوں پر خرچ کریں ۔
کہاں لکھا ہے کہ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر قانون سازی کی بجائے مفادات پر سودے کئے جائیں ۔ کہاں لکھا ہے وزیراعظم کو کروڑوں روپے کاپروٹوکول دیا جائے ۔
کہاں لکھا ہے کہ ملک کا حکمران اپنی سیاسی پارٹی کو مضبوط کرنے میں لگا رہے ۔ گویا دستور کی متبرک کتاب ، نہ پہلے کارآمد تھی اور نہ اب ہے ۔ اس میں درج ساری حدود محض طفل تسلی ہیں ۔ دستور شکنی وہی کرتے ہیں جو دستور کی حفاظت پر مامور تھے ۔ دستور کب اجازت دیتا ہے کہ حکمران وطن کے اثاثوں کو باپ کی جاگیر سمجھ کر جہاں اور جب چاہیں خرچ کرتے پھریں ۔
اگر ہم مسلمان ہیں اور ہمارا وطن " اسلامی مملکت " ہے تو اسلام کی کونسی حد اور کہاں پر لاگو ہے ۔ گویا دستور کی پہلی شق ہی " مذاق " سے شروع ہوئی ۔ اگر دستور بنایا ہے تو اسے من و عن لاگو کیوں نہیں کیا جاتا ۔ اسلام کے نام سے " الرجی " ہے تو کم از کم باقی دستور تو لاگو کیا جائے ۔
چلیں ، عوام کو یہ تو بتا دیا جائے کہ دستور آپ کو یہ یہ مراعات دیتا ہے ۔ دستور حکمرانی کے تحفظ سے آگے کچھ نظر کیوں نہیں آتا ۔
آزاد ھاشمی
١٢ فروری ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment