Tuesday, 19 February 2019

کسان کیا اگائے ؟

" کسان کیا اگائے ؟ "
زراعت وہ شعبہ ہے ، جو کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتا ہے ۔ پاکستان کو اللہ نے جہاں بیشمار نعمتوں سے نواز رکھا ہے ، وہاں ایک محنتی کسان بھی ہے ۔ جو فصل کے ایک کونے پر کھڑا ہوکر ایک ایک پودے کی نبض چھو لیتا ہے ۔ چلچلاتی دھوپ میں بھی اس کا حوصلہ کمزور نہیں پڑتا اور نہ ہی لہو جما دینے والی سردی اسکی راہ روک پاتی ہے ۔ زمین کھودتے کھودتے زندگی گزار دینے والا کسان ،  اللہ کے فیصلوں پر کبھی شکایت نہیں کرتا ۔ مگر کسان تھکا ہوالگتا ہے ۔ اب اسکی محنت اسکا پیٹ نہیں بھرتی ۔ اب زمین سے ملنے والا انعام اسکی ضرورت پوری نہیں کرتا ۔ دل برداشتہ کسان سوچنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ وہ اپنے اباواجداد کے پیشے سے راہ فرار تلاش کر لے یا قسمت آزمائی کرتا رہا ۔ مگر اب اس نے اپنی آنے والی نسلوں کو دھرتی سے دور کر کے بیرون ملک بھیجنا شروع کر دیا ہے ۔ وہ اس تذبذب میں ہے کہ کیا اگائے ، جو اس کی ضرورت پوری کرے ۔ گنا اگاتا ہے تو مل والے دام نہیں دیتے ، گنا جلانے والی لکڑی سے سستا بکتا ہے ۔ کیوں نہ کھیتوں میں جھاڑیاں اگنے دے کہ اسکے خریدار موجود ہیں اور بہتر پیسے مل جاتے ہیں ۔ گندم پانچ سال پہلے ١٣ ڈالر میں من تھی ، جو کہ دنیا کے کسی خطے میں ممکن نہیں ۔ اس سال بارہ ڈالر من ہے ۔  کھاد اور زرعی ادویات میں اضافہ جبکہ پیداوار کی قیمت میں کمی ، اسکی حوصلہ شکنی کیلئے بہت کافی ہے ۔ رہی سہی کسر زمیندار توڑ دیتا ہے جب پیداوار کا زیادہ حصہ لے جاتا ہے ۔ حکمرانوں میں شہری بابو بیٹھے ہیں اور اگر کوئی دیہات سے ہے تو وہ یا تو جاگیر دار ہے یا صنعتکار ۔ اسے کسان کے درد کا احساس کیونکر ہوگا ۔ حکومت کو پاکستان کی اس ساٹھ فیصد آبادی کیطرف توجہ نہ دینے کا صاف مطلب ہے کہ حکمران ملک کی معیشت کو سدھارنا ہی نہیں چاہتے ۔
آزاد ھاشمی
١٧ اگست ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment