Wednesday, 27 February 2019

میٹھا زہر

" میٹھا زہر "
جب بھی جمع تفریق کرنے بیٹھو گے تو کچھ سمجھ نہیں آئے گا کہ ہم نے اپنی تہذیب ، تمدن ، سوچ اور معیار زندگی یوں تبدیل کر لیا ہے کہ شاید کبھی اپنے اسلاف کی راہ پر نہیں چل سکیں گے ۔ اب شاید کبھی صلاح الدین ایوبی ، محمد بن قاسم ، طارق بن زیاد اور سلطان ٹیپو جیسا کردار پیدا نہیں ہوگا ۔ ہم دین کی حدود سے نکل بھاگے ہیں اور نہایت تیزی سے مذہب اور دین کی مخالف سمت کو دوڑے جا رہے ہیں ۔ نہ پیچھے مڑ کر دیکھ رہے ہیں اور نہ دیکھنا چاہتے ہیں ۔ ہم کو خبر ہی نہیں رہ گئی کہ جس منزل کیطرف گامزن ہیں ، وہ ایک لق و دق سراب ہے ، صحرا ہے , حقیقت میں کوئی  منزل نہیں ۔ ایسا کیوں ہوا ؟ اور ایسے کس نے کیا ؟
دراصل ہماری رگوں میں آہستہ آہستہ اثر کرنے والا میٹھا زہر اتارا گیا ۔ سب سے پہلے دیہات کی پینسٹھ فیصد آبادی کو تعلیم سے دور رکھا گیا ۔ ٹاٹ اور درختوں کے سائے میں ایسی تعلیم دی گئی کہ دیہات سے صرف میکینک ، کلرک ، سپاہی ، مزدور اور چھوٹے چھوٹے پیشہ ور پیدا ہوتے رہیں  ، آج بھی دیہاتوں کے سکول اسی معیار پر قائم ہیں ۔ شہروں میں روساء کے بچے ، بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں پڑھتے رہے تاکہ حکمرانی انکے گھر کی لونڈی بنی رہے ۔ غریب کا بچہ ، شہر میں بھی اسی  گھسے  پٹے نظام تعلیم سے جڑا بیٹھا ہے اور اسکی منزل وہی چوتھے درجے کی ملازمت یا چھوٹی موٹی دوکان ہوتی ہے ۔ امراء کے نالائق بچے اعلیٰ تعلیمی اداروں سے ہوتے ہوئے ، اعلیٰ تعلیم کیلئے یورپ چلے جاتے ہیں اور واپس آکر بیورو کریٹ یا سیاسی پنڈت بن بیٹھتے ہیں ، جہاں سے سیدھے اقتدار کی کرسیوں پر براجمان ہو جاتے ہیں ۔ اب جدید تعلیمی اداروں کا راج ہے ، جہاں ہر ممکن کوشش جاری ہے کہ بچے مغربی سوچ کے ساتھ جوان ہوں ، مذہب اور دین کی اقدار سے ناواقف ہوں ۔ اگر دیانتداری سے مشاہدہ کیا جائے تو آج ہمارے بیورو کریٹ ، سیاست دان اور ہر محکمے کے اعلیٰ افسران یہی جدیدیت کی پنیری ہے۔ جو انگریز کی قیادت کو اپنا مشن بنائے بیٹھے ہیں ۔
"گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا
کہاں سے آئے گی صدا   لا الہ الا اللہ "
آزاد ھاشمی
٢٤ فروری ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment