" برآمدات اور قومی رویہ "
بحیثیت ایک ذمہ دار شہری کے ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ ہمارے ذمہ وہ کونسے فرائض ہیں ، جن سے ہم پہلو تہی کرتے ہیں ۔ حکمرانوں کی فرائض سے غفلت پر تنقید زیادہ آسان اور قطعی بے سود ہے ، بد قسمتی سے ہمارے قائدین ، اہم معاملات سے یا تو بے خبر ہوتے ہیں یا ارادی طور پر غور نہیں کرتے ۔اور ہم نے ان پر تنقیدی مشق آزمائی کو فرض سمجھ رکھا ہے ۔
اس تحریر کے پیچھے ، ایک ایسا شرمناک پہلو ہے ، جو ہماری حب الوطنی ، دیانت ، وطن سے اخلاص پر چبھتا ہوا سوال ہے ۔ اللہ کا خاص کرم ہے کہ بہت ساری فصلیں ، پھل اور سبزیاں ، جس معیار کی پاکستان میں اگتی ہیں اس معیار کی پوری دنیا میں نہیں ہیں ۔ میرا یہ موضوع چاول ہے ۔ ہم دنیا کا بہترین چاول " باسمتی " اگاتے ہیں ۔ مگر ہمارا باسمتی چاول اسوقت " تھائی لینڈ " کے گھٹیا چاول سے کم قیمت پر بھی بیچنا مشکل ہو رہا ہے ۔ کیوں ؟ ہمارا باسمتی چاول " بھارت " کے تاجر بیچتے ہیں اور اپنے برانڈ سے بیچتے ہیں ۔ مگر ہمارے تاجر اسی باسمتی کو اپنے برانڈ سے بیچتے ہیں تو " فارمولا چاول " بنا کر بیچتے ہیں ۔ یہ " فارمولا " کیا تکنیک ہے ؟ شاید بہت کم لوگ اگاہ ہونگے ۔ یہ اندازہ لگانا کہ باسمتی کے اندر کتنی مقدار میں گھٹیا چاول " کھپ " سکتا ہے ۔ فارمولا کہلاتا ہے ۔ یعنی ہمارا تاجر ملاوٹ کو فارمولا کہتے کہتے اس حالت کو پہنچ گیا ہے کہ اب عالمی منڈیاں پاکستانی برانڈ سے اجتناب کرتی ہیں ۔
میں اسوقت " گھانا ۔ مغربی افریقہ " میں ہوں ۔ دو بار یہی مشاہدہ ہوا کہ پاکستانی چاول مارکیٹ میں آیا ، بیگ پر باسمتی لکھا ہوا تھا اور اندر انتہائی ناقص چاول تھا ۔ آج ایک پاکستانی دوست سے ملاقات ہوئی ، موصوف انٹر کانٹیننٹل میں اچھی جاب پر ہیں ۔ وہ بتا رہے تھے کہ انکے ایک جرمن دوست نے انہیں بہت سارے دوستوں میں انتہائی شرمندہ کیا ۔ انکے فون میں پاکستان کے برانڈ کے چاول کی تصویریں تھیں جو وہ یورپ میں استعمال کرتے ہیں ۔ مگر وہی برانڈ گھانا میں خریدا گیا اور ایک پاکستانی تاجر سے خریدا ، تو اسکے اندر مرغیوں کو کھلانے والا چاول پیک تھا ۔
سوال یہ ہے کہ اس تاجر کو محب وطن کہنا چاہئے یا وطن دشمن ؟ اس کا احتساب کس کی ذمہ داری ہے؟ کیا یہ تماشا ہم پاکستانیوں کو دیکھتے رہنا چاہئے ؟ سوال یہ ہے کہ میری اور آپکی کیا ذمہ داری ہے؟
آزاد ھاشمی
٢ مارچ ٢٠١٩
Saturday, 2 March 2019
برآمدات اور قومی رویہ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment