" جب ماں مر جائے "
مجھے یاد ہے کہ جب میرے والد محترم اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے ۔ ( اللہ غریق رحمت کرے ) تو میری چھوٹی بہنیں ماں سے لپٹ کر رو رہی تھیں ۔ چھوٹا بھائی بہت کم عمر تھا وہ ایک طرف کھڑا رونے کی وجہ سے بے خبر تھا ۔ میں ماں کے سامنے کھڑا بت تھا ۔ ماں نے مجھے گلے سے لگایا اور بولیں ۔
" تو کیوں خاموش ہے ۔ تو بھی رو لے ۔ اصل میں تیرا باپ مر گیا ہے ۔ ان کا باپ تو ابھی زندہ ہے "
ماں کے یہ الفاظ میری زندگی کا وہ راستہ تھا جو مجھے اختیار کرنا تھا ۔ پھر میں نے اپنے بہنوں اور بھائی کو باپ بن کر پالا ، پڑھایا اور زندگی کی ہر ضرورت پوری کی ۔ خود ایک یتیم کی زندگی جیتا رہا ۔
پھر وہ ماں ، جو میری ڈھارس ، میرا حوصلہ اور میری رہنماء تھی ۔ اس جہان سے کوچ کر گئیں ۔ ( اللہ غریق رحمت کرے ) ۔ میں پردیس میں رو رہا تھا ۔ یقین کرنا چاہتا تھا کہ میرے چھوٹے حوصلہ تو نہیں ہار گئے ۔ مجھے میری بہنیں کہنے لگیں ۔
" بھائی جان ! ماں آپکی مر گئی ہے ۔ ہماری ماں ابھی زندہ ہے "
باپ بن کر پالنا مشکل نہیں لگا تھا ، ماں بن کر سایہ کرنے میں ناکامی کا احساس ہو رہا ہے ۔ یہ وہ کردار ہے جو ماں ہی نبھا سکتی ہے کوئی دوسرا رشتہ نہیں ۔ میری پگلی بہنیں ہمیشہ یہی کہتی ہیں ۔
" اللہ ہماری ماں کو سلامت رکھے ۔ اور آپکی ماں کو جنت نصیب کرے "
ماں کی جگہ پر کرنا شاید میرے حوصلے اور ہمت سے بڑا امتحان ہے ۔ اللہ سے اس ہمت اور حوصلے کی دعا کرتا رہتا ہوں مگر ناکام ہوں ۔
آزاد ھاشمی
٢٥ فروری ٢٠١٩
Wednesday, 27 February 2019
جب ماں مر جائے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment