Wednesday, 27 February 2019

سیاست اور ہم

" سیاست اور ہم  "
آج اگر ہم اپنا اپنا محاسبہ کرنے بیٹھیں ، تو ہم ایک لٹے پٹے قافلے کے ہم رکاب ہیں ۔ ہمیں جو کرنا تھا ، جو فرض تھا ، جس میں فلاح تھی ، جس پر اللہ راضی تھا ۔ سب کچھ چھوڑ دیا ، سب کچھ بھلا دیا ۔ اخلاقیات ختم ہوئی ، ایک دوسرے کا احترام نا پید ہوا ۔ گھر گھر میں الگ الگ نظریات نے جنم لیا ۔ ہم سب نے جن رہنماوں  کی تقلید میں  راہ نجات پانا تھا ، انکو فراموش کردیا ۔ دنیا کے بھوکے ، اقتدار کے حریص اور عمل کی  منحرف  شخصیات کو راہنماء مان لیا ۔ یہ تمام سیاسی پنڈت اور مذہب کا کھلواڑ کرنے والے ملا ، ہمارے الگ الگ رہنماء ہیں ۔ ہم یہی سمجھ رہے ہیں کہ انہی کی پیروی کریں گے تو منزل ملے گی ۔ جبکہ ایک خائن ، ایک زانی ، ایک شرابی اور ایک جھوٹا جس منزل پہ لے جائے گا ۔ وہ منزل یقینی فلاح کی منزل نہیں ہو گی ۔ اللہ کے ذکر سے لوگ غافل ہوگئے ، سیرت النبی کی محفلیں ختم ہوئیں ، اللہ کے محبوب بندوں کے تذکرے رک گئے ۔ اب جہاں بیٹھو ، جسے سنو  ، بس سیاست ہی سیاست ، ۔غیبت ، بہتان اور تہمت کی بنیاد پر جو بھی کہا جائے وہ عیب ہے اور یہ عیب سیاست کہلاتا ہے ۔  تعجب اسوقت ہوتا ہے جب ایک محنت کش ،  مجبور اور غربت کا مارا ، اپنے بچوں کے نان نفقے کی خبر چھوڑ کر سیاسی پنڈت کے پیچھے بھاگ رہا ہوتا ہے ۔ جو مسلمان ہو کر بھی اپنے دین کی ابجد سے نا آشنا ہیں ، وہ پوری دنیا کی تاریخ ازبر کئے بیٹھے ہیں ۔ ہر شخص سیاست پر پوری قوت سے منسلک ہے ۔  جو متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں وہ قومی سیاست پر بولے جا رہے ہیں ۔ دیہاتوں کے غرباء اپنے اپنے علاقے کی سیاست میں الجھے ہیں ۔ جن کو دوچار لفظ انگریزی آتی ہے وہ بین القوامی سیاست پر تبصرے کر رہے ہیں ۔ حد یہ ہے کہ ہم لوگ اپنی اولاد کی ضروریات سے غافل ہوگئے ہیں ۔ آپ سیاسی جلسے اور جلوسوں کو دیکھ لیں کہ کون لوگ نعرے لگا رہے ہوتے ہیں ۔ جن کے بچوں کے پاس سکول کی کتابیں تک میسر نہیں ہوتیں ۔  وہ احمق دھرنوں میں بیٹھے نظر آئیں گے ۔
اس سیاست کا ستیا ناس ہو ، اس نے پوری قوم کو مفلوج کر ڈالا ہے ۔ لوٹ لیا ہے اس سیاست نے ۔
کبھی جائزہ لو تو اپنی حماقت پہ رونا آئے گا ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment