Wednesday, 27 February 2019

جنگ اور محاذ

" جنگ اور محاذ "
پاکستان کا وجود ، بھارت کے لئے ہمیشہ ایک ڈراونا خواب رہا ۔ ہندو نہیں چاہتا کہ مسلمان کبھی اتنا طاقتور ہو جائے کہ وہ پھر سے بھارت پر چڑھائی کے قابل ہو سکے ۔ یہ وہ خوف ہے جو دشمنی کی اصل بنیاد ہے ۔ اور اس خوف کے لئے " ہندو " نے کیا  نہیں کیا ؟ اور کون کون سا محاذ کھول رکھا ہے ؟ ہم پہلے بھی بے خبر تھے اور آج بھی بے خبر ہیں ۔ ہمارے نزدیک صرف متصادم ہو کر ایک دوسرے پر آگ برسانا ہی جنگ ہے ۔ معلوم نہیں ہم کبھی سنجیدہ قوم بھی بن سکیں گے یا صرف مفروضوں پر ہی چلتے رہیں گے ۔  پلوامہ کا واقعہ ہندو ذہن کا تراشیدہ کھیل ہے ، جسے وہ پاکستان کو عدم استحکام کیلئے استعمال کرنا چاہتا ہے ۔ ہمارے نوجوان ، بزرگ اور عام شہری اسے طنز و مزاح سمجھ کر " جگت بازی " میں لگ چکے ہیں ۔ یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ ہمارے لئے بھارت اور اسکی عسکری قوت بے معنی سی چیز ہے ۔ ہم نے ایسی ہی حماقتیں کیں اور ہمیشہ اسی زعم میں رہے کہ ہندو بزدل ہے ، جب چاہیں گے مسل دیں گے ۔ اسی زعم میں اپنے نوے ہزار جری فوجی " جنگی قیدی " بنتے دیکھے  ۔ ہمارے جنرل جس بے بسی کے عالم میں ہتھیار ڈالتے دکھائے گئے ہیں وہ ہماری جرات اور منصوبہ سازی پر سوال بن چکا ہے ۔ ہمیں یہ حزیمت اسی بھارت کے ہاتھوں اٹھانی پڑی تھی ، جسے ہم پھسپھسی فوج سمجھتے ہیں ۔ ہمیں وہ حقائق جاننے اور یاد رکھنے کی ضرورت ہے ، جو ہماری شکست کا باعث بنے ۔ ہمارے کچھ قائدین اسوقت بھی دشمن کے ایجنٹ تھے ، آج بھی ہیں ۔ ہمارے قائدین اسوقت بھی اپنے اپنے اقتدار کی رسہ کشی میں الجھے ہوئے تھے ، آج بھی  الجھے بیٹھے ہیں ۔ قوم اسوقت بھی چھتوں پر چڑھ کر نعرے لگارہی تھی ، آج بھی لگا رہی ہے ۔ سفارتی طور پر ہم اسوقت بھی کمزور تھے ، آج بھی کمزور ہیں ۔ ہمارے جنگی ساز و سامان کی اسوقت بھی کمی نہیں تھی ، ہمارے جوان اور فوجی افسر پیشہ ورانہ لحاظ سے آج کے افسران سے کہیں بہتر تھے ، کیونکہ وہ جنگ کے تجربات سے گذرے تھے ۔ بھارت صرف گولہ بارود کے محاذ پر متحرک نہیں بلکہ اس نے پاکستان کے خلاف بیشمار محاذ کھول رکھے ہیں جیسا کہ بھارت نے سفارتی جنگ چھیڑ رکھی ہے ،  اور بہت کامیابی سے جیت رہا ہے ۔ کیا یہ تعجب نہیں کہ ہمارے کئی سیاسی رہنماء انکی زبان بولتے ہیں ۔ کیا یہ سچ نہیں کہ حسین حقانی نے سفارتکار ہو کر ملکی مفادات کے خلاف کام کیا ۔ کیا ہم دنیا میں دوست بنانے میں کامیاب ہوئے یا دشمن بنانے میں ۔ کیا اس محاذ پر ہم پسپائی کی صورت حال سے دوچار نہیں ؟  حقیقت یہ ہے کہ اس محاذ پر ہم پہلے سے کہیں زیادہ شکست خوردہ ہیں ۔ کونسا ملک ہے جہاں ہمارا سفارتکار ، بھارتی سفارتکار سے زیادہ فعال ہے؟
اقتصادیات اور تجارت ایک دوسرا محاذ ہے ۔ جس پر بھارت نے نہایت کامیابی سے ہمیں عالمی تجارتی منڈیوں سے نکال باہر کیا ۔ ہماراچاول اپنی بوریوں میں بھرا اور پوری مارکیٹ پر قبضہ جما لیا ۔ ایسا کیوں ہوا؟ اسکے متحرکات کیا ہیں ؟ کسی نے سوچا؟ میڈیا پہ سارا کلچر ہندو کا ہے ۔ اب پاکستان کے بیشتر اردو بولنے میں ہندی لہجہ اختیار کرتے ہیں ۔ ہم انکے تہوار ، اپنے تہوار سمجھ کر مناتے ہیں ۔ کیا اس سے ہماری شناخت دھندلا نہیں گئی؟ کتنے پاکستانی ہیں جو بھارت کی فلموں سے اعراض کرتے ہیں ؟
جب سے پاکستان وجود میں آیا ، کتنے سیاستدان ایسے گذرے ہیں جو بھارت کے سیاستدانوں کے ہم پلہ تھے؟ قائداعظم کے بعد ، سوائے بھٹو کے کتنے ہیں جو بھارتی وزراء اعظم کے ہم پلہ تھے ۔ یہ بار بار مارشل لاء کیوں لگی ، صرف اسلئے کہ ہمارے سیاسی میدان  کے پہلوان کمزور تھے ۔ یہ روایت بھارت میں کیوں نہیں چل سکی ؟ گویا سیاسی عقل و  شعور کے محاذ پر بھی ہم ہارتے نظر آتے ہیں ۔ وہاں سینکڑوں خداوں کے پرستار ، قومی نظرئیے پہ ایک رہے اور یہاں ایک اللہ کو ماننے والے سینکڑوں الگ الگ راہوں پر چل نکلے ۔ کیا یہ سچ نہیں کہ ہمارا سیاستدان ملکی مفاد سے ہٹ کر سوچتا ہے ، اس کی ترجیح اسکی سیاسی پارٹی اور اپنی ذات ہوتی ہے اور یہی وہ المیہ ہے جس کے پاس ہم ڈیم نہیں بنا سکے ۔ ہمارے سیاستدانوں کی اکثریت ایسی ہے جو کسی نہ کسی طور ، کسی نہ کسی بیرونی طاقت کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں ۔ ہمارے جرنیل ، ہمارے بیورو کریٹ اور ہمارے اعلیٰ افسران کی اکثریت ریٹائرمنٹ کے بعد ملک سے چلے جاتے ہیں ۔ ہمیں کئی سیاستدان دوسرے ممالک کی شہریت اعزاز سمجھ کر قبول کرتے ہیں ۔ کیا یہ سب بھارت میں ہماری طرح رائج ہے ۔ بھارت کے کتنے وزیر اعظم ہیں جو دوسرے ممالک میں جا کر اعلان کرتے ہیں کہ ہم کرپٹ قوم ہیں ؟
ایسے بیشمار محاذ ہیں جو ہمیں تنزلی کیطرف دھکیل رہے ہیں ۔ اس پر توجہ کی بجائے " لطیفہ گوئی " کو بطور ہتھیار استعمال کرنا ، حماقت نہیں تو کیا ہے ؟ حماقت کے نصیب میں شکست ہوتی ہے ۔ دانائی فتح کیطرف لے جاتی ہے ۔ ہمیں جنگ جیتنا ہے تو سارے محاذوں پر لڑنا ہو گا ۔
آزاد ھاشمی
٢٢ فروری ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment