Monday, 18 February 2019

دستور میں یہ بھی لکھا ہے

" دستور میں یہ بھی لکھا ہے (1)
دستور کی "مقدس کتاب " میں پارلیمنٹ کے تقدس کو قائم رکھنےکیلئے لکھا ہے کہ اس میں بیٹھنے کیلئے ہر وہ شخص نا اہل ہے ، جس نے کسی بھی انداز سے  " نظریہ پاکستان " کی مخالفت کی ہو۔ 
اگر ہم اس اصول کو بنیاد بنا لیں ، تو کتنے سیاستدان اسوقت اسمبلی میں موجود ہیں جو کھلم کھلا نظریہ پاکستان کی تضحیک کرتے ہیں ۔  کتنے ہیں جو اپنے مفادات پر زک پڑتی دیکھتے ہیں تو پاکستان کی سالمیت کی پرواہ کئے بغیر منہ سے جھاگ چھوڑنے لگتے ہیں ۔ اول تو ہمیں سمجھ ہی نہیں آنے دیا کہ پاکستان کا نظریہ " لا الہ الا اللہ " تھا یا سیکولر ۔ ہندو سے جنگ کس بات کی تھی ؟ اگر تاریخ کا مطالعہ کریں تو لڑائی سرحدوں کو قائم کرنے کیلئے شروع نہیں ہوئی تھی ۔ نظریہ یہی تھا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں ۔ دونوں کے مذہب ،  تہذیب اور روایات الگ الگ ہیں ۔ ایسی صورت میں کہ ایک قوم گائے کو پوجتی ہو ، ماں کا درجہ دیتی ہو اور دوسری اسکی قربانی کو مذہبی طور پر لازم قرار دیتی ہو ، کیسے اکٹھے رہ سکتے ہیں ۔ کیسے ممکن ہے کہ ہم " اللہ کی وحدانیت " کو ایمان سمجھیں اور دوسرا پتھر ، درخت ، سانپ اور بندر کو عبادت کے لائق سمجھ لے ۔ یہ خارج از امکان تھا کہ ایسے صورت میں دونوں اکٹھے رہیں ۔ یہی نظریہ تھا جس پر برصغیر کی تقسیم ہوئی ۔ قوم کو ابہام کا شکار کر دیا گیا کہ بانی پاکستان نے پاکستان کو سیکولر سٹیٹ بنانے کا کہا تھا ،  پاکستان کے معرض وجود میں آنے میں ہمارے اکابرین کی محنت شاقہ غیر متنازعہ ہے ۔ مگر اس میں وہ خون بھی شامل ہے جو ہمارے اجداد نے پاکستان کا مطلب کیا ؟ " لا الہ الا اللہ " کیلئے بہایا ۔  کیا اب ہماری جدوجہد کی بنیاد یہ نظریہ ہے ؟ یہ کیسے سبو تاژ ہوا ؟ کیا اسے بھول جانے والے اسوقت اسمبلی میں بیٹھے ہیں ؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو دستور پاکستان کی شرط کا کیا ہوا ؟
اگر کسی سیاسی پارٹی کے کلیدی رہنماء نظریہ پاکستان کے خلاف بولتے ہیں تو دستور کے مطابق اس پارٹی کے کسی بھی رکن کا اسمبلی میں بیٹھنا دستور کے خلاف ہے ۔ اپنے مذہبی حقوق کی بات کرنا ، اس پر سخت موقف اختیار کرنا اور اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کرنا " نظریہ پاکستان " کی اساس ہے ۔ 
(جاری ہے )
آزاد ھاشمی
١٣ فروری ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment