" عمران خان ہوش کرو "
اے کاش ! کوئی یہ چند سطور عمران خان کی میز پر رکھ دے ۔
عمران خان صاحب ! آپ کہہ رہے ہو کہ " میں سمجھ رہا ہوں کہ جسطرح اللہ نے نبی پاک کو تیرہ سال مشکلات میں سے گزارا ، اسی طرح مجھے مشکلات میں سے گذار کر میری تیاری کی ۔ اور نبی پاک نے جسطرح ان تیرہ سال کے بعد اگلے دس سال میں دنیا بدل دی ، اسی طرح میں پاکستان کی تقدیر بدل دوں گا ۔ "
جناب آپ کی جماعتی اصلاحات اور اپنی پارٹی کی تشکیل کسی بھی لحاظ سے اللہ کے نبی سے مطابقت نہیں رکھتی ۔ آپ کی پارٹی کی اکثریت احکامات ربی کی منکر ہے ۔ اور ہر اس عیب سے لبریز ہے جو اللہ کے ہاں قابل تعزیر ہیں ۔ اللہ کے نبی کو دنیا سے ظلمت ، گمراہی ، بدکاری اور تمام عیوب سے پاک معاشرے کی تیاری کی ذمہ داری دینا تھی اور آپ وہ سب کر رہے ہیں ، جس سے اللہ نے روکا ہے ۔ آپ نے چند سماجی کام کئے ہیں ، یہ اسی کا انعام ہے کہ آپ کو عزت ملی ہوئی ہے ۔ وگرنہ کوئی ایسی خوبی نہیں کہ آپ کو اسلام کی نمائیندگی کا حق ملے ۔ اللہ کے نبی کا ایک طائف کا سفر تمہاری پوری زندگی کی تکالیف سے آسمان اور زمین کے فرق پر ہے ۔ سیاست ، منافقت ہے اور نبی کبھی مصلحت اور سیاست نہیں کرتے ۔ انکے فیصلے دو ٹوک ہوتے ہیں ۔ لکھ لو ، اگر تم اسلامی نظام سے ہٹ کر کوئی کامیابی حاصل کرنے کا سوچ رہے ہو تو اس سے بڑی حماقت کوئی نہیں ۔ کبھی فرصت ملے تو اپنے ترازو کے باٹ دیکھ لینا ، سب کے سب جعلی اور بے وزن ہیں ۔
اچھا ہے ، اپنی حدود کو سیاست تک محدود کر دو ۔ مذہب تک مت بڑھاو۔ اور اپنی عاقبت کیلئے کچھ بچائے رکھو ۔
آزاد ھاشمی ۔
١٦ فروری ٢٠١٨
Monday, 18 February 2019
عمران خان ہوش کے ناخن لو
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment