Friday, 8 December 2017

سیاست اور عبادت

" سیاست اور عبادت "
ایک رائے قائم کی جا رہی ہے اور ذہنوں کو تبدیل کرنے کی کوشش جاری ہے کہ سیاست عبادت ہے . اس خیال کی تخلیق کیسے شروع ہوئی اور اسکو پکا کرنے کا جہاد کون لوگ کر رہے ہیں اور کیوں کر رہے ہیں . اسکے بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا . اس نظرئیے کو پروان چڑھنے سے روکنے کیلئے کوئی مذہبی سکالر میدان میں نہیں آیا . شاید مذہبی قایدین کے پاس ابھی کافر کافر کرنے  سے فرصت نہیں . 
عبادت کا مفہوم کیا ہے , اسکا دائرہ کتنا وسیع ہے . یہ سب واضع کرنا مذہبی سکالرز پر لازم ہے .
عبادت اللہ کی عبدیت کے عملی اظہار کا نام ہے . اللہ کی عبدیت کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ نے جس کام کا حکم دیا , اسے من و عن , بغیر کسی تحقیق اور ترمیم کے تسلیم کرتے ہوئے اس پر عمل کیا جائے . جس کام اور فعل سے روکا , بلا چوں و چراں رکا جائے . حقوق اللہ اور حقوق العباد کا پورا خیال رکھا جائے , جیسے حکم ہوا . یعنی غلامی صرف اللہ کی اختیار کی جائے تو یہ عبدیت کا عملی مظاہرہ ہے اور یہی عبادت ہے .
سیاست , کو کیسے اللہ کی عبدیت کہا جا  رہا ہے . ادراک سے بالکل باہر ہے . سیاست حکمرانی تک پہنچنے کے داو پیچ کا نام ہے . حکمرانی پر پہنچ کر بنی نوع انسان کی خدمت تو ڈیوٹی ہے , تکمیل ہے ان وعدوں کی جو عوام سے کئے جاتے ہیں  , ہر گز عبادت نہیں کہلائے گی . سیاست کے کھیل کو عبادت سے جوڑ کر عبادت کا تصور مہمل بنانے کی کوشش کے علاوہ کچھ نہیں . دنیا کا حصول انسانی فطرت کی تسکین ہے اور اقتدار اس کی آخری منزل .  عبادت صرف اور صرف اللہ کو راضی کرنے کا نام ہے . سیاست کے کھیل میں جھوٹ , چغلی , بہتان , مکر اور فریب اصل گر ہیں . اور یہ سارے وہ افعال ہیں جس سے اللہ راضی نہیں بلکہ ناراض ہوتا ہے . 
کیسے ممکن ہے  کہ اللہ کی عبدیت  کو اور اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے کی جدوجہد کو ایک ہی مان لیا جائے  .
ازراہ کرم سیاسی مفکرین مذہبی اقدار کے ساتھ یہ مذاق نہ کریں .
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment