Friday, 8 December 2017

بیچارہ جاوید ھاشمی

" بیچارہ جاوید ہاشمی "
سیاست کی بیماری بھی بہت عجیب ہے . حواس تو اوائل ہی میں چھین لیتی ہے اور کردار کو آہستہ آہستہ زنگ آلود کرتی رہتی ہے . خودداری کی سخت دشمن یہ بیماری  , بڑے بڑے طرم خانوں کو بھی اپنے سے نیچ لوگوں کے سامنے دو زانو کر ڈالتی ہے . شرم اور حیا کو چاٹ جاتی ہے . مریض کو ایک زعم میں مبتلا کر دیتی ہے کہ قوم اور ملک کا اسی پر انحصار ہے . مجھے جناب جاوید ھاشمی صاحب کو دیکھ کر بہت ترس آتا ہے . بیچارہ زمانہ طالبعلمی میں لیڈری کے مرض کا شکار ہوا . جس جماعت نے لیڈری کا چسکا لگایا . اسکے ساتھ پرواز سست دکھائی دی , پھر یکے بعد دیگرے جماعتوں کو بدلنا شروع کیا . کہیں بھی اور کسی نے بھی وہ خواب پورے نہیں کئے جو محترم دیکھتے تھے . جسم نے ساتھ چھوڑا , شعلہ بیانی کرنے والی زبان لکنت زدہ ہو گئی , کانپتے ہاتھوں اور لرزتی ٹانگوں سے بھی پبلک میں کودنے کا عمل جاری رکھا . نئے پاکستان کی بنیادیں بھی ڈال دیں اور بادشاہت سے کراہت بھی کی . پھر اسی بادشاہت میں لوٹ کر عاقبت سنوارنے کو واپسی بھی کر لی .
میری سدھ بدھ اس " عروج , زوال اور  عروج " کو تو نہیں پہنچ سکی . شاید قوم کو سمجھ آ جائے اور جناب کو بابا جمہوریت کا لقب عطا کردے . یا "باغی بہادر " کی پگڑی پہنا دی جائے .
قوم اس بے چارے کی حالت پر ترس کھا کر اب کچھ تو ایسا کردے کہ وہ سکون سے اگلے سفر کیلئے کچھ اکٹھا کرنے میں لگ جائے . آہ ! بیچارہ جاوید ھاشمی .
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment