" جسٹس صاحب کی بے باقی"
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آئی ایس آئی کے نمائندے سے استفسار کیا کہ
"آپ اپنی رپورٹ میں سے کوئی ایک لفظ ایسا بتادیں جو اخبارات میں رپورٹ نہ ہوچکا ہو؟ جو چینلز والے نہ بتاچکے ہوں۔ آپ پر ریاست کے وسائل خرچ ہوتے ہیں، آپ اس ملک کی سب سے طاقتور ایجنسی ہیں جبکہ آپ کو یہ نہیں پتا کہ دھرنے کو لیڈ کرنے والوں کے ایڈریس کیا ہیں "
سوال تو درست ہے اور بہت جرات مندانہ موقف بھی . ہم تو اسے ایمان بنا بیٹھے ہیں کہ ہماری ایجینسی دنیا کی بہترین ایجینسی ہے . آئی ایس آئی کے بارے میں کوئی بھی جرات غداری ہوتی ہے . حیرانی کی کیا بات ہے کہ وہ میڈیا کی معلومات پر اپنا لائحہ عمل تیار کرتے ہیں . ان کے پاس وقت ہی کب ہے کہ تحقیقات کرتے پھریں . ضرب عصب اور ردالفساد کے بعد ٹوٹی کمر والے دہشت گردوں کی کامیاب کاروائیاں ایجینسی پر پہلے ہی سوالیہ نشان بن گئ ہیں . اب آپ نے بھی نئے نئے سوال کر ڈالے ہیں . اگر انکی معلومات پر عام پبلک نے سوال اٹھانا شروع کر دئیے تو ہماری بہادر فوج کا مورال بھی متاثر ہو گا اور ایجینسی کے افسران کو طیش بھی آئے گا . پھر وہ بھی کہیں گے کہ یہ بلڈی سویلین کیسے کیسے سوال اٹھاتے ہیں . دھرنے کے قائدین کے اڈریس تو بہت کٹھن کام بھی ہے اور اتنا ضروری بھی نہیں . اسکے لئے اتنی بڑی ایجینسی اپنا وقت کیوں برباد کرے . جناب جسٹس صاحب آپ کو اتنے سوال نہیں اٹھانے چاہئیے تھے . ویسے بھی ایک لاکھ اسی ہزار پولیس کی نفری جو پنجاب کی حکمران فورس ہے , پولیس سے بھی پوچھیں کہ آپ کی کیا ذمہ داریاں ہیں .آپ کیوں ملکی سرحدوں کی حفاظت والوں کو ان مسائل میں الجھا رہے ہیں . آپ اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کر کے پولیس کو بلا لیں اور ایسی ہی کلاس لیں . اس سے کم از کم آئی ایس آئی کا بھرم تو قائم رہے گا . کیونکہ یہ بھرم ہماری ڈھارس بھی ہے اور بیرونی دشمن کے لئے خوف بھی . اسے زندہ رہنا چاہئیے .
ازاد ھاشمی
Friday, 8 December 2017
جسٹس صاحب کی بے باقی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment