Tuesday, 22 May 2018

آٹے کا تھیلا ، گھی کا ڈبہ

" آٹے کا تھیلا ، گھی کا ڈبہ "
حاتم طائی کی رسم سخاوت آج تک جاری ہے ۔ عید ، تہوار اور رمضان میں غریب  پرور لوگ ، میدان میں آجاتے ہیں ۔ صاف ستھرے ، کلف زدہ لباسوں میں ملبوس ، بڑی بڑی گاڑیوں سے اتر کر ، چند ذہنی غلاموں کے نعروں کی گونج میں ، قطار میں بیٹھی چند بیوگان ، چند جھکی کمر والے بوڑھے ، چند یتیم بچے ، چند اپاہج ، گرد آلود ، پسینے کی بدبو سے " مہکتے " لباس اور چہروں پہ موت کی زردی والے یہ ضرورت مند ، گھنٹوں دھوپ میں ، گرمی میں اور یخ بستہ سردی میں انتظار کرتے ہیں ۔
پھر ان قسمت کے مارے لوگوں کو ، حاتم طائی کے وارثان ، ایک تھیلا آٹا ، ایک ڈبہ گھی ، ایک کلو چینی اور اور سو دو سو روپے کا بند لفافہ تھما دیتے ہیں ۔ گویا انکی بقیہ زندگی کا راشن مکمل ہوا ۔ اپنی تصویریں ان بے بس چہروں کے ساتھ اخبارات اور دیگر تشہیری ذرائع سے عام ہو جاتی ہیں ۔ کیا یہ " دان " زکوٰة تھی ،خیرات تھی  یا انتخابی کاروائی ۔ جو کچھ بھی تھا ، انسان کی تحقیر کا بہترین طریقہ ہے ۔ کیا یہ خیرات لینے والے اور خیرات دینے والے دونوں ایک طرح کے گوشت پوست کے انسان نہیں ہوتے ۔ ان مجبور لوگوں کو قدرت نے ایسا نہیں بنایا ۔ یہ کسمپرسی اللہ کیطرف سے نہیں ملی ۔ یہ سب ان خیرات کا مذاق کرنے والوں کیوجہ سے ہے ۔ ان غریبوں کا استحصال انہی امراء نے کیا ۔ ان کے حصے کا اناج ان ذخیرہ اندوزوں نے چھین رکھا ہے ۔ یہ ذمہ داری ہے حکمرانوں کی کہ ان مفلوک الحال لوگوں کو وسائل فراہم کریں تاکہ وہ بھی وقار سے جی سکیں ۔
اگر اسلام کے اصولوں پر عمل کیا جائے تو اسوقت زکوٰة اتنی بنتی ہے کہ کوئی مانگنے والا ہاتھ باقی نہیں رہتا ۔ معاشرتی زندگی میں اگر ہمسایہ بھوکا سو گیا تو خوشحال ہمسائے کی ساری رات کی عبادت بھی قبول نہیں ۔ اگر کسی  ایک کو سحر پہ پیٹ کیلئے کچھ نہ ملا تو پورے قرب و جوار کا کوئی روزہ قبولیت نہیں پائے گا ۔ یاد رہے کہ روزہ اسی احساس کے جگانے کا نام ہے ۔ افطاریوں کے بڑے بڑے دستر خوان سے اللہ کو کچھ غرض نہیں ۔ اگر احساس نہیں جاگا تو ایک ماہ کی فاقہ کشی ہے ، روزہ داری نہیں ۔ ایک تھیلا آٹا نہ رمضان کیلئے کافی ہے نہ ہی اس سے عید منائی جا سکتی ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢١ مئی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment