Monday, 21 May 2018

بابا چریا

" بابا چریا "
اسکے ہم عصر بتاتے ہیں کہ وہ اپنے زمانہ طالبعلمی میں بہترین اور ذہین طالبعلم تھا ۔ شہر کے ہر سماجی ، سیاسی اور مذہبی پروگرام کے سالاروں میں شامل رہا ۔ اپنی دھن کا پکا اور کردار کا صاف رہا ۔ کسی بھی گفتگو میں دلائل سے بات کرنا اسکا طرہ امتیاز تھا ۔ اچھا کھلاڑی بھی تھا ۔ وقت ہمیشہ اسکا مخالف رہا مگر وہ اپنی جرات سے وقت کا مقابلہ کرتا رہا ۔ اب بات بات پہ الجھنے کی عادت نے اسے " بابا چریا " بنا دیا ۔ عمر کے آخری حصے میں اسکی عادت میں ضد اور ایک نیا فلسفہ حاوی ہو گیا ۔ وہ مسجد میں نماز پڑھنے جاتا تو با جماعت نماز کی بجائے الگ نماز پڑھتا ۔ پوچھنے پہ اکثر یہی بولتا ۔
" مولوی فسادی ہے ۔ اسلام کی بات نہیں کرتا ، اپنا مسلک  پڑھاتا ہے ۔ فسادی کو امامت کا حق نہیں "
چند روز پہلے مسجد میں ہاتھ کھول کر نماز پڑھنے لگا تو کسی نے روک دیا ۔ اس نے زور زور سے چیخنا شروع کردیا
" اپنے رب کی نماز پڑھتا ہوں ۔ جیسے دل کرے گا پڑھوں گا ۔ یہ میرا اور میرے رب کا معاملہ ہے ، وہ قبول کرے گا یا نہیں ، آپ کون ہو فیصلہ دینے والے "
بابا چریا ، شہر کے ریسٹورنٹ کے باہر بیٹھے بھکاریوں  کو کھانا کھلانے والوں پر اکثر چیختا نظر آتا ہے ۔
" تم رئیس زادے ، ان کو ایک وقت کا کھانا بھیک میں دیتے ہو ۔ اور سمجھ لیتے ہو کہ بڑا ثواب کما لیا ۔ صدقہ کرتے ہو اپنی مصیبتوں کی نجات ڈھونڈھنے کیلئے ۔ غریب کی مجبوری پر بھی تجارت سے باز نہیں آتے ہو ۔ کبھی سوچا یہ بھکاری کیوں بنے ؟ تم لوگوں نے ان کے حصے کا مال اپنی تجوریوں میں بھر رکھا ۔ وہ نکالو  .  انکا حصہ انکو دو ۔ یہ بھی عزت کی روٹی کھائیں گے ۔ "
لوگ اسکی بات سنتے ہیں اور ہنس دیتے ہیں ۔ اسکا سارا فلسفہ شہر میں مذاق بن گیا ہے ۔ بابا چریا کا اصلی نام معدوم ہوتا جا رہا ۔ اسکے قریبی دوست اسے دیکھ کر راستہ بدلنے لگے ہیں ۔ مگر اسکی دھن دن بدن پکی ہوتی جا رہی ہے ۔ وہ جانتا ہے کہ لوگ اسے " بابا چریا " کہتے ہیں ۔ حتی کہ اسکی چہیتی بیوی بھی اسے " چریا " کہتے ہوئے تامل نہیں کرتی ۔ اکثر اپنے بچوں سے الجھ جاتا ہے ۔ صالح اولاد خاموشی سے سنتی ہے اور جی جی کرتی ہے ۔
" اللہ نے تمہیں اتنا بڑا ڈاکٹر بنایا ہے کہ تم اسکے بندوں کا علاج کرو ۔ تم پیسے لیتے ہو ۔ مفت علاج کرو ۔ اللہ کے بندوں کا کام کرو اور انکے مالک سے پیسے مانگو ۔ اسکے پاس بہت خزانے ہیں ۔ وہ ایک بار میں اتنا دے دے گا کہ تیری نسلوں سے ختم نہیں ہو گا ۔ کوڑی  کوڑی جمع کرنا چھوڑ ۔ خدمت کر خدمت "
لوگ سوچتے ہیں کہ بابا کو دماغی خلل ہے ۔ دنیا کے نظام سے ہٹ کر جینا کیسے ممکن ہے ۔ چند روز پہلے اپنے جگری دوست سے الجھ پڑا ۔ اس نے  ایک بڑا گھر بنایا ہے ، سب دوستوں میں بابا چریا کی بھی دعوت تھی ۔ سب اسے مبارک دے رہے تھے اور بابا چریا اس سے الجھ رہا تھا ۔
" اوئے کھوتے ! اتنا بڑا گھر کس لئے بنا لیا ۔ کیا تو نے یہاں رہنا ہے؟ "
اسکا سوال سن کر سب نے قہقہہ لگایا ۔
" گھر رہنے کیلئے ہی بنائے جاتے ہیں چریا " دوسرے دوست کا لقمہ تھا
" تیرا باپ ، میرا باپ ، شیخ کا باپ ، سب گھر بنا کر کہاں گئے ؟ کیا ان گھروں میں رہتے ہیں ؟ سب قبروں میں ہیں ۔ چریا میں نہیں تم لوگ ہو ۔ تم لوگ ہو چریا ۔ اپنی اپنی قبر بناو ۔ جہاں دکھ نہ ملے ۔ جہاں آرام سے سو سکو ۔ جہاں گرمی نہ لگے ۔ "
وہ بولتا رہا اور دوست ہنستے رہے ۔ شہر کا یہ کردار پھر بھی ایک رونق ہے ۔ پھر بھی لوگ اس سے محبت کرتے ہیں ۔ اسکا عجیب فلسفہ سنتے رہتے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
١٩ مئی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment