Tuesday, 22 May 2018

دشمن کی چال

" دشمن کی چال "
کسی بھی قوم کو فتح کرنے کیلئے سب سے خطرناک ہتھیار یہ ہوتا ہے کہ اس قوم کو اعصابی طور پر اتنا الجھا دیا جائے کہ وہ فیصلہ کرنے کی اہلیت کھو بیٹھے ۔ یہ وہ ہتھیار ہے جو کسی بھی ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے ۔
آج ہم اسی جنگ کی کیفیت میں ہیں ۔ ایسی صورت میں دانشمندی یہ نہیں کہ دشمن کی چال کے تحت اپنے اعصاب کو خلفشار میں جھونک دیں ۔ دانشمندی یہ ہے کہ باہمی اتفاق اور یگانگت سے ان اسباب کا قلع قمع کریں ، جو ہمارے اعصاب پر سوار ہو چکے ہیں ۔
یہ ایک انتہائی خطرناک تحریک ہے ، جسے ہم نے روکنا ہے ۔ ایک قوم بن کر ، ایک وجود بن کر ۔ وہ تمام لوگ ، خواہ وہ سیاسی قائدین ہیں ، خواہ وہ بکے ہوئے صحافی ہیں ، خواہ وہ دشمن کے ایجنٹ ہیں جو افراتفری کی فضا بنانے پر تلے ہیں ۔ ان سب کے ارادوں کو ختم کرنا ، ناکام کرنا اور ہر اس ادارے کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا ، ہماری ذمہ داری ہے ۔ جو ادارے اس حملے کے سامنے سینہ تانے کھڑے ہیں ۔ ان اداروں پر مثبت یا منفی تنقید بد اثرات مرتب کر سکتی ہے ۔
میدان میں لڑتا ہوا سپاہی ، اس مدبر ، عالم اور زاہد سے لاکھ درجے بہتر ہے جو طاغوت کے خوف سے عبادت کرنے حجرے میں دبکا بیٹھا ہے ۔ جو جان ہتھیلی پہ رکھے ، محاذ پر بیٹھا ہے ، وہ بہتر جانتا ہے کہ وار کب کرنا ہے اور وار کیسے روکنا ہے ۔ ہمیں صرف اسکا حوصلہ ٹوٹنے سے بچانا ہے ۔ جو بھی دانشور ، سیاسی جنون میں اس ضرورت سے بے خبر ہے ، وہ دشمن کی یلغار کا ہی ایک حصہ ہے ۔ اس کی حوصلہ شکنی وطن اور قوم کی اصل خدمت ہے ۔
آزاد ھاشمی
١٤ مئی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment