" وہ کون تھا "
وہ عمر رسیدہ ، غریب ریہڑی پہ بچوں کے کھلونے بیچنے والا تھا ۔ چند ماہ پہلے وہ بازار کے کونے پہ ریہڑی لگانے لگا تھا ۔ غربت بھی اسکے چہرے کے وقار اور شخصیت کو نہیں چھپا سکی تھی ۔ مسکرا کر سلام کرنے میں پہل کرنا اسکا معمول تھا ۔ چھوٹا ہو یا بڑا وہ سب کو سلام کرتا ۔ ہر روز ایک لمبی سی گاڑی اسکے پاس آکر رکتی ، ایک خوش لباس نوجوان گاڑی سے اترتا ، ریہڑی پہ لگی چیزوں کو صاف کرتا ، بابا جی کو کچھ کھانے کو دیتا اور چلا جاتا ۔ اس نوجوان کے دو پولیس گارڈ بھی ساتھ ہوتے ، جس سے یہ اندازہ ہوتا کہ وہ کوئی سرکاری افسر ہے ۔ لوگ چہ میگوئیاں کرتے ۔ کہ یہ ریہڑی والا کوئی ایجنسی کا آدمی ہے ۔ کسی کو جرات نہ تھی کہ اس سے پوچھ لیتا کہ وہ کون ہے ۔ آخر ایک روز ریہڑی سے کچھ دور چند معززین نے اس نوجوان کو روک کر ماجرا دریافت کیا ۔
" میں سیشن جج ہوں . مگر جو بھی ہوں انکی وجہ سے ہوں ۔ میرا ان سے کوئی دنیاوی رشتہ نہیں ۔ میرے والدین ایک حادثے میں چل بسے ، اسوقت میری عمر چھ سال تھی ۔ اور میری بہن کی عمر بارہ سال ۔ اللہ کے سوا ہمارا کوئی سہارا نہیں تھا ۔ انہوں نے اس ریہڑی کی کمائی سے ہمیں پڑھایا بھی اور میری بہن کی شادی بھی کی ۔ میری جب جاب لگی تو انہوں نے مجھے بلایا اور کہا ۔
بیٹا ! تم پر ایک قرض ہے ۔ وعدہ کرو کہ ادا کرو گے ۔ قرض یہ ہے کہ تم ایک بچے کو پڑھاو گے اور ایک بہن کی شادی کرو گے ۔
میں اب تین بچوں کو پڑھا رہا ہوں اور دو بہنوں کی شادی کر چکا ہوں ۔
مگر اصل بات یہ ہے کہ بابا جی کی ریہڑی آج بھی کسی بے سہارا کا سہارا ہے ۔ جو یہ کبھی کسی کو نہیں بتاتے ۔
انکے اپنے بچے ، صاحب روزگار ہیں ۔ انکی تمام ضروریات وہ پوری کرتے ہیں ۔ ہر کوشش کے باوجود وہ ان سے یہ دھندہ نہیں چھڑا سکے ۔ جب وہ ضد کرتے ہیں تو باباجی کسی دوسری جگہ ریہڑی لگا
لیتے ہیں ، جہاں کوئی شناسا نہ ہو ۔ اور کہتے ہیں اللہ نے میری ذمہ داری لگائی ہے میں پوری کر کے رہوں گا ۔
شکریہ
ازاد ہاشمی
Tuesday, 23 May 2017
وہ کون تھا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment