قرآن مجید اور علم و حکمت(9 )
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا کہ
’’اور آسمانی کائنات کو ہم نے بڑی قوت کے ذریعہ سے بنایا اور یقیناً ہم (اس کائنات کو) وسعت اور پھیلاؤ دیتے جا رہے ہیں‘‘
ماہر طبیعیات نے اس امر کا مشاہداتی ثبوت فراہم کیا ہے کہ تمام کہکشائیں ایک دوسرے سے دور ہٹ رہی ہیں، جس کا مطلب یہ ہوا کہ کائنات پھیل رہی ہے۔ یہ بات آج مسلمہ سائنسی حقائق میں شامل ہے۔
غور فرمائیے کہ قرآن پاک کے کائنات کے پھیلنے کو اس وقت بیان فرما دیا ہے جب انسان نے دوربین تک ایجاد نہیں کی تھی، اس کے باوجود کچھ ذہن یہ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن پاک میں فلکیاتی حقائق کا موجود ہونا کوئی حیرت انگیز بات نہیں کیونکہ عرب اس علم میں بہت ماہر تھے۔ فلکیات میں عربوں کی مہارت کی حد تک تو ان کا خیال درست ہے لیکن اس نکتے کا ادراک کرنے میں وہ ناکام ہوچکے ہیں کہ فلکیات میں عربوں کے عروج سے بھی صدیوں پہلے ہی قرآن پاک کا نزول ہو چکا تھا۔ اور عربوں کا سارا علمی ادراک قرآن کی تعلیمات کا مرہون ہے ۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ سائنس کا ہر نظریہ قرآن کی تعلیم سے جنم لیتا ہے اور سائنسدان اس سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
٤ اکتوبر ٢٠١٨
Thursday, 4 October 2018
قرآن مجید اور علم و حکمت9
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment