Friday, 5 October 2018

بہتر ہے کہ توبہ کر لیں

" بہتر ہے ، توبہ کر لیں "
ہم سب نے مل کر ، اللہ سبحانہ تعالی کے نظام کو حجروں میں قید کر دیا ۔  وہ نظام جو امن و امان کی ضمانت ہے ۔ وہ نظام جو کسی ذی روح کے حقوق پر قد غن نہیں لگنے دیتا ۔ وہ نظام جس کی ایک ایک شق کا ضامن خالق و مالک خود ہے ۔ جو قرآن زندگی کے اصولوں کا رہنما تھا اسے ثواب کی کتاب بنا کر ، خوبصورت غلاف چڑھا کر طاقوں میں رکھ ڈالا ۔ اسوہ حسنہ سے لاکھوں احادیث بنا ڈالیں ، اور ان پر کئی مسالک تشکیل کردئیے ،  مسلمان ایک اکائی تھی ایک امت تھی ، اسے شیعہ ، سنی ، اہلحدیث ،دیوبندی اور نہ جانے کیا کیا نام دے ڈالے ۔ اس تفریق نے آسان کر دیا کہ اسلام کے نظام سے انحراف کر لیا جائے ۔
جمہوریت سے  دل جوڑ لئے ۔ انگریز کو تہذیب کا سرچشمہ مان لیا اور اسی تہذیب میں داخل ہونے کے جتن کرنے لگے ۔ حد ہو گئی کہ جن سے توقع تھی کہ اللہ سبحانہ تعالی کے نظام کیلئے جہاد کریں گے ، انہوں نے جمہوریت کو دین مان لیا اور رات دن جمہوریت کی آبیاری شروع کر دی ۔ بڑے بڑے دیندار اسی جمہوریت کی راہ پر چل کر لٹیرے بن گئے ۔
ایسے لگتا ہے ، جیسے خالق اکبر نے ہمیں گمراہوں کے حوالے کر دیا ہے اور ہم گمراہوں کے نقش قدم پر نہ صرف چلنے لگے ہیں بلکہ انکی تقلید کر رہے ہیں ۔ اللہ سے توبہ کر لینی چاہئیے کہ ہم اسی راستے پر پلٹنا چاہتے ہیں ، جو ہمارا اصل ہے اور جو فلاح کا راستہ ہے ۔ اللہ کریم ہے ، وہ ضرور سنے گا اور ضرور مدد فرمائے گا ۔
آزاد ھاشمی
٥ اکتوبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment