Monday, 1 October 2018

پرندے اور انسان

" پرندے اور انسان "
پچھلے سات آٹھ سال سے ایک حیرت انگیز تجربہ ہو رہا ہے ۔ مجھے اس عرصے میں کئی بار سکونت تبدیل کرنا پڑی ۔ یہاں عام طور پر نماز فجر کی اذان کا وقت پانچ بجے کے آس پاس رہتا ہے ۔ غیر اسلامی ملک ہونے کی وجہ سے مساجد کی تعداد بہت کم ہے ، خصوصی طور پر غیر مسلم اکثریت کے علاقوں میں بہت دور دور تک مسجد نہیں ہوتی ۔ ان علاقوں میں فجر کا وقت معلوم ہونا دشوار ہو جاتا ہے اور نیند کا غلبہ نماز میں کوتاہی لاتا ہے ۔ میرا مشاہدہ ہے عین اذان کے وقت ایک چھوٹی سی چڑیا ، اس تیز آواز سے بولنا شروع کر دیتی ہے ، ایسے لگتا ہے کہ اللہ نے اسکی ذمہ داری لگا دی ہے کہ فجر کے وقت جہاں جہاں اذان کی آواز نہیں جاتی ، تمہیں مسلمانوں کو جگانا ہے ۔ وہ چڑیا ایک تسلسل کے ساتھ بولتی رہتی ہے تا وقتیکہ کہ نماز کا وقت مکمل نہ ہو جائے ۔ پھر سارا دن اسکی آواز سنائی نہیں دیتی ۔ یہ تو خالق و مالک رب ہی جانتا ہے کہ وہ اسوقت کیا کہتی ہے ۔ رب کی کیا حمد بیان کرتی ہے ۔ اسی طرح مرغ سوا چار بجے کے قریب اذان شروع کرتا ہے ۔ گویا اسکی ذمہ داریوں میں شامل ہے کہ تہجد کے وقت کا اعلان کرنا ہے ۔
جب سوچتا ہوں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ ہم اشرف المخلوقات ہو کر بھی اپنے فرائض سے غافل ہیں اور یہ جانور ہو کر بھی کس پابندی سے اپنے فرض کو نبھاتے ہیں ۔
اللہ کریم کے ان تمام فضل و کرم پر غور کی جائے تو شکر ادا کرنا ممکن نہیں کہ وہ اپنے رسولؐ کی امت سے کتنا پیار کرتا ہے اور اسی رسولؐ کی امت کسقدر بے خبر ہے کہ اپنے رب کیلئے دن میں پانچ بار اسکی پاک ذات کے سامنے جھکنے کا وقت نہیں ۔ انسان کتنا بے خبر ہے کہ جہاں اصل ٹھکانا ہے وہاں کیلئے کوئی اسباب ساتھ نہیں اور جہاں رہنا ہی نہیں وہاں محلات کی تیاری میں لگا ہے ۔ مجھے کئی بار اپنے احتساب سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ چڑیا مجھ سے بہتر ہے جو اپنے فرض میں کبھی کوتاہی نہیں کرتی اور نہ کبھی چند ثانیے کی دیر کرتی ہے ۔ اسکے ہاتھ میں نہ گھڑی بندھی ہے اور نہ اسے وقت کا سبق پڑھایا گیا ۔ اسے اپنے فرض کی کتنی فکر ہے کہ آندھی ہو بارش ہو ، گرمی ہو سردی ہو ، وہ عین وقت پہ آواز لگا دیتی ہے ۔
میرا اللہ کتنا کریم ہے کہ میرے اعمال کی درستگی کیلئے چڑیا کو پابند کر رکھا ہے کہ مجھ سے غفلت نہ ہو جائے ۔
آزاد ھاشمی
٣٠ ستمبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment