Wednesday, 12 June 2019

بیمثال انقلاب ، فتح مکہ

" بیمثال انقلاب . فتح مکہ "
وہ کونسا ستم تھا جو مکہ کے خود سر , سرکش , متکبر اور کینہ پرور سرداران مکہ نے اللہ کے نبی پر , اللہ کے نبی کی معاونت کرنے والوں پر اور اللہ کی وحدانیت پر ایمان لانے والوں پر نہیں آزمایا . زمین تنگ کر دی گئی , گھر بار چھین لیا , اور اسی پر اکتفا نہیں کیا , کئی کار زار سجا ڈالے . کفر اپنی شیطنت اور خباثت پر آخری حد تک پہنچ چکا تھا . وہ گھڑی قریب , جب ایک انوکھا انقلاب آنے والا تھا . رمضان کی سولہ تاریخ کو آ پہنچی . جب سرور کائنات , نہایت سادگی سے مکہ میں داخل ہوئے . سرداران مکہ کے جگر کانپ رہے تھے , ایک ایک کو اپنے ظلم یاد آرہے تھے . ابو سفیان کو بھی پسینہ چھوٹ رہا تھا , ھندہ کو بھی موت کا خوف کپکپا رہا تھا . کسی سرکش میں جرات نہیں تھی کہ سر اٹھائے اور تلوار سونت کر باہر نکلے , مبازرت کی دعوت دے , اپنے قبیلے کا رعب جمائے . فاتح , وہی تھا جو یتیم تھا , جس کی کمر پر اونٹ کی اوجھڑی ڈالی جاتی تھی , جسے طائف کے آوارہ بچے پتھر بھی مارتے تھے اور تضحیک بھی کرتے تھے . جسے تین سال تک محسور رکھا گیا .
دنیا میں کون ایسا فاتح ہو گا , جو مفتوحہ علاقے میں سادگی سے داخل ہو . اور اعلان کرے . سب کو امان دے اور دشمن کے گھر میں پناہ لینے والے کو بھی امان دے . تلوار اپنے میان سے نکالے بغیر مکہ کا فتح ہو جانا . مفتوح لوگوں کی نہ کوئی سرزنش , نہ کوئی انتقام . عفو و درگذر . کیسا عظیم فاتح کیسی عظیم فتح . رحمت اور سخا کا بہتا دریا .
انقلاب بھی معمولی نہ تھا , دنیا کا سب سے بڑا اور منفرد انقلاب . اندھیرے روشنی میں تبدیل , اللہ کے گھر سے سارے بت ختم , نہ کوئی جبر کہ وہی مکہ میں ریے گا جو اسلام لائے گا . ہر کسی کو کھلی آزادی کہ اپنے اپنے مذہب پر قائم رہنا چاہے تو آزادی سے رہے . نہ کسی جائیداد ضبط , سب کچھ ویسے کا ویسا . گمراہی کی جگہ ہدایت ہی ہدایت .
سولہ رمضان , تاریخ کے ایک انقلاب کا دن .
کاش ! ہم مسلمان , بیسیوں ایام منانے والے اپنے ایام سے بھی اگاہی رکھیں .
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment