Wednesday, 17 July 2019

اسلامی نظام کیوں اور کیسے (17)

" اسلامی نظام کیوں اور کیسے (17)
  جمہوری نظام کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اس میں کردار اہم نہیں ہوتا ، ووٹ اہم ہوتا ہے ۔ جبکہ زندگی کے بہترین نظام اور درست فیصلوں کیلئے کردار لازمی جزو ہے ۔ ایک شخص جس کے اعصاب پر شہوت اور نشہ سوار ہو گا ، وہ اپنی ذہنی حالت کے تحت ہی فیصلہ کرے گا۔ اسلام کے نظام میں کردار اہم ہے ۔
باب العلم حضرت علیؑ فرماتے ہیں ۔
"دیکھو خبردار نیک اوربدکردار تمہارے نزدیک یکساں نہیں نہ ہونےپائیں کہ اس طرح نیک کرداروں میں نیکی سے بددلی پیدا ہوگی اوربدکرداروں میں بدکرداری کا حوصلہ پیدا ہوگا "
گویا بد کردار کا انتخاب بدکرداری کو فروغ کا سبب ہوتا ہے ۔  حکمران اپنے کردار کی وجہ سے اپنے ارد گرد جن لوگوں کو ذمہ داریاں دے گا ، وہ بھی عام طور پر ملتے جلتے کردار کے حامل ہونگے ۔ جمہوریت کا ایک ثمر یہ بھی ہے کہ حکومتی امور میں اکثر و بیشتر وہی لوگ شامل رہتے ہیں جو گذشتہ بد طینت حکومتوں کا حصہ رہے ہوتے ہیں ۔ ہمارے ہاں یہ امر نہایت شدت سے سامنے آیا ہے ۔
حضرت علیؑ نے فرمایا
"بدترین وزراء وہ لوگ ہیں کہ جو پہلے برے لوگوں کے وزیرتھے اوران کے گناہوں میں شریک تھے پس ایسا نہ ہو کہ ایسے افراد تمہارے ہم راز بن جائیں کیونکہ گناہگاروں کے یاورتھے اورظالم لوگوں کی مدد کرنے والے تھے پس تم ایسے افراد تلاش کرو جو فکری حوالے سے قوی اورمعاشرے میں جانی پہچانی شخصیات ہوں جنہوں نے کسی ظالم کی مددنہیں کی ایسے لوگ تیری نسبت مھربان تر ہوں گے ۔۔ان کو اپنی نجی اورسرکاری محفلوں میں دعوت کرو"
آزاد ھاشمی
١٦ جولائی ٢٠١٩
---- جاری ہے ۔ ملاحظہ ہو قسط ١٨ ۔۔

No comments:

Post a Comment