Tuesday, 23 July 2019

زندگی کی جمع تفریق

" زندگی کی جمع تفریق "
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے آدمؑ کی تخلیق کے وقت فرشتوں سے مخاطب ہو کر فرمایا ۔
" میں زمین پر اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں "
اعزاز کو دیکھا جائے تو ہماری ذمہ داری واضع ہو جاتی ہے ۔ انسان ہونے کے ناطے ہماری ذمہ داری کیا تھی ، ہمیں کیا کرنا تھا اور ہم نے کیا کیا ؟
اگر ہم سب اپنا اپنا محاسبہ کرنے بیٹھ جائیں ، زندگی کو لمحہ بہ لمحہ جمع تفریق کرنے لگیں تو ہم نے بھی وہی کچھ کیا ، پیدا ہوئے ، بچپن کھیل کود کر کے جوان ہو گئے ، ساتھی کی امنگ اور ضرورت کیطرف لگ گئے ، بچوں کی خواہش میں بچے پیدا کئے ، کھایا پیا ، اپنے اپنے وسائل کے مطابق دنیا میں گھر اور ٹھکانے بنانے لگ گئے ۔ یہ وہ سارے کام ہیں جو اللہ کی تمام مخلوق کسی نہ کسی انداز سے کرتی ہے ۔ گویا یہ جبلت چرند اور پرند کے ساتھ بھی جڑی ہوئی ہے ۔ بچوں کی پرورش میں تمام جانور بھی حتی المقدور سعی اور جانفشانی کرتے ہیں ۔
تو پھر ہم نے کونسا ایسا کام کیا ، جس کی بناء پر ہم اشرف المخلوقات کہلاتے ہیں ؟ جانتے ہوئے بھی کہ یہ کرہ ارض ہمارا مستقل ٹھکانا نہیں ، ہم نے یہاں محل بنانے میں ہر جائز اور ناجائز سعی کی ۔ اس کوشش میں لگے رہے کہ دوسرے انسانوں سے بر تر ہوجائیں ۔ طاقت کے زعم نے رعونت پر اکسایا تو جبر کی لاٹھی پکڑ لی ۔ اپنی اپنی جنت تعمیر کرتے رہے ۔ بہت خوف آیا تو کسی مستحق کے ہاتھ پر چند سکے رکھ کر اللہ سے اجر مانگنے لگ پڑے ۔ صرف یہ سمجھ سکے کہ انسان ہونے کے ناطے عبادت لازم ہے ۔ پانچ بار سجدہ ریز ہو گئے ، ایک آدھ حج کر لیا ، کچھ خیرات کر ڈالی ، روزے رکھے تو گویا اس درجے کے حقدار بن گئے کہ جنت میں جائیں گے ۔ اگر محاسبہ کریں تو نماز بھی پڑھی تو اپنے لئے ، حج بھی کیا تو اپنے لئے ، خیرات بھی کی تو اپنے لئے ، اللہ کیلئے نہ عبادت کی اور نہ اللہ کی اطاعت کی ۔
ہم کو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے پہلا انعام یہ دیا کہ اس کرہ ارض پر اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا ، دوسرا کرم یہ فرمایا کہ اپنے حبیبؐ کی امت ہونے کا اعزاز دیا ۔ تیسرا فضل یہ فرمایا کہ قرآن پاک ہدایت کیلئے نازل کیا ۔ چوتھا انعام یہ دیا کہ اس قرآن کی حفاظت کا ذمہ خود لے لیا ۔ ایسے بیشمار انعامات کہ ایک خشیت کا سجدہ کرو ، اللہ معاف کرنے پر راضی ۔ اللہ کے کسی ایک انسان کے کام آجاو ، اللہ بے حساب رحمتیں دے دے ، کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھ کر اپنی اولاد کیطرح پیار کرلو ، اللہ کے فضل کی بارش برسنے لگے ۔ اللہ کے انعامات کا شمار ممکن نہیں ۔  مگر جب حساب کرنے لگو تو اپنے پاس کیا ہے اور کیا ہونا چاہئیے تھا ۔ ہم کہاں کہاں چوک گئے ہیں ۔ ہمیں کیا کیا کر لینا چاہئے ۔ بس کبھی ادھر غور کر لو تو راستہ آسان بھی ہے اور پرسکون بھی ۔ اگلے سفر کا بہت سارا سرمایہ جمع ہونے میں کوئی دیر بھی نہیں اور مشکل بھی نہیں ۔
آزاد ھاشمی
١٩ جولائی ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment