Wednesday, 31 July 2019

حج پہ جا رہے ہو "

" حج پہ جا رہے ہو "
ماں اپنے کپکپاتے ہونٹوں اور آنکھوں میں تیرتے آنسووں سے بیٹے کے سامنے بیٹھی کچھ کہنے کی کوشش میں تھی ۔ بیٹا دو دن بعد حج کی سعادت کیلئے جا رہا تھا ۔
" بیٹا ! اللہ کے گھر میں میرے لئے بھی دعا کرنا کہ مرنے سے پہلے اسکا گھر دیکھ لوں ۔ اور اسکے حبیبؐ کے در پر حاضری مل جائے "
ماں کے رکے ہوئے آنسو بہہ نکلے ۔
" اماں ! ابا کے فنڈ ملیں گے تو تجھے بھی حج کرا دوں گا ۔ اس بار لے جاتا مگر پیسے اتنے ہی تھے کہ تیری بہو اور پوتے کو ہی لے جا سکوں گا ۔ "
ماں کے دل پہ یہ الفاظ ایک بڑا بوجھ تھے ، جو وہ نہ کہہ سکی اور آہستہ سے بولی ۔
" ہاں بیٹا ! تیرا ابا بھی کہا کرتا تھا کہ ریٹائرمنٹ پہ پیسے ملیں گے تو دونوں حج کرنے جائیں گے ۔ وہ پہلے ہی اپنے رب کے پاس چلا گیا ۔ نہ اسکے نصیب میں تھا اور شاید نہ ۔۔۔ "
وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔
" تیرے ابا کے فنڈ ملیں گے تو تیری بہن بیوہ ہے ، اسے چھوٹا سا گھر بنا دوں گی ۔ چھوٹے چھوٹے یتیم بچوں کے ساتھ دھکے کھاتی پھرتی ہے "
ماں کا دل بھی عجیب ہوتا ہے ، جس بچے کو تکلیف پہنچتی ہے اسکا سارا درد ماں کے دل میں جمع ہو جاتا ہے ۔
" تو تھوڑے سے پیسے اسے دیتا جا ۔ بچوں کی فیس دے لے گی "
ماں نے بیٹے سے نہایت لجاجت سے سوال کیا ۔
" ہاں اماں ! کوشش کروں گا ۔ تیری بہو کی ضد ہے کہ حج کے بعد کچھ زیورات خریدے گی ۔ اگر کچھ بچ گئے تو آکر بہن کو دے دوں گا ۔ "
ماں کی زبان مزید کسی سوال کیلئے تیار نہیں تھی ۔ بیٹے کے سر پر ہاتھ رکھا ۔ دل میں دعا کی ہوگی مگر زبان سے کوئی لفظ نہ نکلا ۔ بیٹا نہ آگے بڑھا اور نہ ماں کو تسلی دی ۔
آزاد ھاشمی
٢٩ جولائی ٢٠١٩ 

No comments:

Post a Comment