Thursday, 1 August 2019

ٹیکسی والا

" ٹیکسی والا "
دفتر سے واپسی کیلئے جب روڈ کیطرف بڑھا تاکہ کوئی سواری حاصل کروں ۔ کراچی ایسا شہر ہے جہاں گاڑی کی پارکنگ ایک سردرد ہے اسلئے بہتر سمجھا جاتا ہے کہ اپنی کار کی بجائے ٹیکسی یا پبلک ٹرانسپورٹ پر انحصار کیا جائے ۔ سامنے ایک خوبرو جوان ، جسکا لباس اسکی غربت پر ثبوت تھا اور خستہ حالت ٹیکسی  سے ٹیک لگائے کسی گاہک کا منتظر تھا ۔ ٹیکسی کے پیچھے لکھا تھا ۔
" مریض اور غریب کیلئے فری "
میں نے پوچھے بغیر ٹیکسی کا دروازہ کھولا اور بیٹھ گیا ۔ وہ نوجوان بھی مسکراتا ہوا ، گاڑی سٹارٹ کرنے لگا ۔ مجھ سے پوچھے بغیر اس نے میرے گھر کی سمت پر گاڑی دوڑانا شروع کردی ۔
" پوچھو گے نہیں کہ میں نے کہاں جانا ہے " میں نے کہا
" جانتا ہوں سر کہ آپ ماڈل کالونی جائیں گے "
میں چونک گیا کیونکہ اس طرح کی ٹیکسی اور اس شکل و شباہت کے کسی نوجوان سے میری کبھی آشنائی نہیں رہی ۔
" اگر مناسب سمجھو تو مجھے روزانہ گھر سے پک کر لیا کرو اور شام کو گھر چھوڑ دیا کرو ۔ بس تھوڑی رعایت کر دیا کرنا "
میرا سوال سن کر وہ ہنسا ۔
" جی سر ۔ مجھے آپکی خدمت سے خوشی ہوگی ۔ مگر ایک مجبوری ہے کہ اگر اس وقت مجھے کوئی غریب یا مریض مل گیا تو پہلے اسکو منزل تک لے کے جاوں گا ۔ اگر آپ ایسے میں انتظار کر سکیں تو میں صبح سے شروع کر دوں گا "
میرے ذہن میں نہ رعایت کا ارادہ تھا اور نہ روزانہ مجھے ضرورت تھی کیونکہ میں دفتر کیلئے پابندی کا عادی ہی نہیں تھا ۔ بلکہ میرے لِئے وبال بن جاتا ۔ مگر میں چاہتا تھا کہ اسے روزانہ کچھ پیسے یقینی طور مل جایا کریں ۔  میں نے بلا حیل و حجت اسکی بات مان لی ۔
" تم خود غریب لگ رہے ہو ،  پھر یہ آفر کیوں کر رکھی ہے " اپنے تجسس کو تسلی دینے کیلئے پوچھا ۔
" سر پیسے والوں کے پاس تو بیشمار مواقع ہوتے ہیں ، نیکیاں کمانے کے ۔ میں غریب ہوں سوچا اسی طرح اپنے نامہ اعمال کو وزنی کرلوں "
جواب معقول تھا ۔
" سر میری ضرورت صرف چند روٹیاں ہیں ، گوشت کی لذت بھول گئی ہے ۔ میرے معصوم بچے اور میری صابر بیوی بھی کبھی کوئی تقاضہ نہیں کرتے ۔ شام کو گھر لوٹتا ہوں تو کبھی سوال نہیں ہوا کہ آج کیا کمایا ۔ یہی پوچھا جاتا ہے کہ آج کوئی مریض ملا ؟ کسی غریب کو منزل پہ پہنچایا ؟ "
اسکے چہرے پہ طمانیت کی سرخی تھی ۔
" اللہ بڑا کریم ہے سر ۔ جو بھی پکے ارادے سےخواہش کرو پوری کر دیتا ہے ۔ مجھے روز مریض بھی مل جاتے ہیں اور غریب بھی "
میں حیران تھا اور ذہن میں وسوسہ آ رہا تھا کہ شاید نوجوان " نفسیاتی " مریض ہو چکا ہے ۔ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ موضوع کیسے بدلوں ۔
" سر ! آپ کو حیرانی ہوگی ، میرے ساتھ سکول میں ایک لڑکا پڑھتا تھا ۔ وہ ڈاکٹر بن گیا ہے ۔ میں سب مریض اسکے پاس لے کر جاتا ہوں ۔ وہ مفت علاج بھی کرتا ہے اور  دوائی بھی مفت دے دیتا ہے ۔ کبھی کبھی جیب سے پیسے بھی دیتا ہے ۔ آپ کے قریب ہی کلینک ہے اسکا ۔ آپ سے ملواوں گا "
مجھے اپنا آپ بہت چھوٹا لگ رہا تھا ۔ میں اپنے آپ اسکے سامنے ہیچ سمجھ رہا تھا ۔ سر میں نہیں وہ تھا ۔ یا سر وہ ڈاکٹر تھا جو مفت والے مریض کو دیکھ خوش ہوتا تھا ۔ اسکا قد مجھ سے کہیں بڑا تھا اور میں پست قد دکھائی دے رہا تھا ۔ مجھ سے پوچھے بغیر اس نے گاڑی میرے گھر کے سامنے لا کر کھڑی کر دی ۔ مجھے یاد ہی نہیں رہا کہ اسے کرایہ دینا تھا ۔  اس نے تقاضا نہیں کیا ، خدا حافظ کہا اور چلا گیا ۔ اسے تو بہت ضرورت تھی کہ اپنے بچوں کیلئے اتنا لے جا سکے وہ معصوم بھی اچھا کھانا کھا لیں ۔ میں سوچتا رہا اور رات طویل ہوتی گئی ۔ صبح کا انتظار کہ کب ہارن ہو اور میں اس عظیم " سر " کا قرض چکا سکوں ۔ اتنی لمبی رات کبھی نہیں دیکھی ۔
آزاد ھاشمی
یکم اگست ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment