" قربانی کا گوشت "
اسکی آنکھوں کی سرخی اور سوجن بتا رہی تھی کہ وہ بہت دیر تک رویا ہے ۔ پارک کے گیٹ کے ساتھ جوتے پالش کرتے کئی سال گذارنے والا یہ نوجوان ، اپنی ہی دنیا میں مگن نظر آیا کرتا تھا ۔ ہر گاہک سے مسکراتے ہوئے بات کرنا اور اپنی مزدوری پر بھاو تاو نہ کرنے کی عادت نے اسے ہر دلعزیز بنا دیا تھا ۔ جس نے جو بھی دے دیا جیب میں ڈال لیا ۔ میرا جب بھی پارک جانا ہوتا ، جوتے پالش ہوتے ہوئے بھی پالش کروا لیا کرتا تھا ۔ وہ شرارتی انداز سے جوتوں کو دیکھتا اور برش پکڑ کر شروع ہو جاتا ۔ وہ بھی سمجھتا تھا کہ میرا پالش کرانے کا مقصد کیا ہے ۔ جب کبھی ہوائی چپل پہنی ہوتی تو مسکرا کر کہتا ۔
" بابو جی ! جوتا پالش نہیں کراو گے ؟ "
آج اسے دیکھ کر میرے دل میں عجیب سی چبھن ہوئی ۔ کہ ہم لوگ کتنے غافل ہیں ۔ میں چاہتا تو اسے کوئی اچھی نوکری دلا سکتا تھا ۔ مگر ذہن میں کبھی خیال ہی نہیں آیا کہ اسکے پاس بیٹھ کر دو چار باتیں ہی کر لوں ۔ شاید میں بھی ان شہریوں سے الگ نہیں تھا جو صرف اپنی دنیا تک محدود ہیں ۔ جنہیں کسی دوسرے کے دکھ درد سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا ۔ ہم لوگوں نے ایک ساتھ رہنے کی عادت چھوڑ دی ہے ۔ دور دور رہنے لگے ہیں ۔ میرا ہمسایہ کس حال میں ہے ، مجھے کبھی فکر نہیں ہوتی اور نہ ہی میرے ہمسائے کو اسکی فکر ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ سالوں سال دیواریں ملے مکینوں کے نام معلوم نہیں ہوتے ۔ آج مجھے اپنی کم ظرفی کا اندازہ ہوا ۔ سوچا ماضی کی بے اعتناعی کا ازالہ کردوں ۔ میں اسکے چھوٹے سے بنچ پہ بیٹھ گیا ۔
" کیا بات ہے دوست آج پریشان لگ رہے ہو "
میں نے پوچھا ۔ تو اس نے بجھی بجھی مصنوعی مسکراہٹ سے کہا۔
" نہیں بابو جی ۔ ایسی کوئی بات نہیں "
میری بیشمار بری عادتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جس بات کے کھوج میں لگ جاتا ہوں ۔ اسے مشن بنا لیتا ہوں ۔ میں سوال در سوال کرنے لگا ۔ آخر اسے بولنا پڑا ۔
" بابو جی ! میرے دو بچے ہیں ، بیٹی آٹھ سال کی ہے اور بیٹا چھ سال کا ۔ آج صبح بیٹی پوچھ رہی تھی ۔ "
اسکی آنکھیں چھلک پڑیں ۔ اور زبان لڑکھڑا گئی ۔
" ابا ! سارے محلے والے قربانی کے جانور لے آئے ہیں ۔ آپ گائے لائیں گے یا بکرا ؟ جلدی لے آئیں ۔ میں اور منا اسے سجائیں گے "
" میں کیا جواب دیتا اسے ۔ سر ہلا کر ناشتہ کئے بغیر نکل آیا ہوں ۔ جانتا تھا کہ وہ سوالوں سے میرا سینہ چیر دے گی ۔ بابو جی ! میں نے محنت مزدوری سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔ میں انجنئیر ہوں ۔ مگر نہ نوکری ملی اور نہ پیسے تھے کہ کچھ اچھا دھندہ کر لیتا ۔ جوتوں کی مرمت کر رہا ہوں اور اتنے پیسے کہاں سے لاوں کہ قربانی کا جانور خریدوں ؟ "
انسان کتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو ۔ آنکھوں میں آیا پانی روک نہیں پاتا.
" بابو جی ! کئی سال ہوگئے ہیں کہ ہم گوشت کا ذائقہ صرف عید پر چکھتے ہیں ۔ وہ بھی کچھ خدا ترس لوگ چند بوٹیاں دے جاتے ہیں ۔ کیا یہ سب تقدیر ہے بابو جی ؟ کیا امراء اپنی تقدیر میں لکھے ہوئے سے تھوڑا تھوڑا بانٹنے لگیں تو غریبوں کی تقدیر نہیں بدلے گی؟ "
اس نے جوتے سینے کے اوزار ایک طرف رکھ دئیے اور پوری توجہ سے تقدیر اور تقدیر لکھنے والے کی باتیں کرتا رہا ۔ میں سنتا رہا اور وہ بولتا رہا ۔ اسکا ایک ایک لفظ میرے لئے ایک ایک امتحان تھا ۔
" بابو جی ! یہ تقدیر لکھنے والے کی بے انصافی نہیں ۔ وہ مجھ سے بھی اتنا ہی پیار کرتا ہے جتنا آپ سے ۔ وہ میرا بھی رب ہے اور آپ کا بھی ۔ اس نے کسی کیلئے مجبوری نہیں لکھی ۔ یہ معاشرے کے طاقتور لوگوں کی لوٹ کھسوٹ ہے جس نے کمزوروں کیلئے بھوک ، افلاس ، ناداری اور دوسروں کی خدمت کرنا لکھ رکھا ہے "
اس نے اپنا سر دونوں ہاتھوں سے دبوچ لیا ۔
" معاف کرنا بابو جی ۔ غربت کے زخموں میں بہت ٹیس کا درد اٹھتا ہے تو غریب کفر بکنے لگتا ہے ۔ جیسے میں نے بکا ہے "
"میری بچی تو ہر سال قربانی کے جانور کو سجانے کے سپنے دیکھتی ہے ۔ بالآخر ہڈیوں کو چوس کر خوش ہو جاتی ہے ۔ امراء کی قربانیوں میں غریبوں کو حصے میں گوشت کم اور ہڈیاں زیادہ ملتی ہیں ۔ یہ تقسیم تو اللہ نے نہیں بتائی تھی "
مجھے ایسے لگا جیسے میں ہی اسکا مجرم ہوں کہ کئی سال سے جوتے پالش کراکے چند زاید سکے دے کر سمجھتا رہا کہ بہت احسان کر رہا ہوں ۔ کیا تھا کہ ایک بکرا اسکے دروازے پہ باندھ دیتا ۔ قربانی تو یہی تھی صرف جانور کا خود گلا کاٹنا ہی تو قربانی نہیں ہوتی ۔
آزاد ھاشمی
٤ اگست ٢٠١٩
Sunday, 4 August 2019
قربانی کا گوشت
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment