" اشرف الانبیاء ﷺ کا آخری خطبہ حج (١)"
اشرف الانبیاء ، سرور کائنات ،
منبع رشد و ہدایت حضرت محمد ﷺ نے جو آخری خطبہ فرمایا ۔ اس کو ہی غور و فکر سے سن لیا جاتا ، سمجھ لیا جاتا ، اختیار کر لیا جاتا تو ہماری رہنمائی کیلئے بہت کافی تھا ۔ہمارے بے شمار مسائل کا حل بھی تھا اور فلاح کا آسان راستہ بھی ۔ صراط مستقیم کی جامع رہنمائی بھی ملتی اور شیطان سے چھٹکارا بھی حاصل ہوتا ۔ فرمایا
" اے لوگو! سنو، مجھے نہیں لگتا کہ اگلے سال میں تمہارے درمیان موجود ہوں گا۔ میری باتوں کو بہت غور سے سنو، اور ان کو ان لوگوں تک پہنچاؤ جو یہاں نہیں پہنچ سکے۔"
آپؐ کا یہ فرمانا کہ
"مجھے نہیں لگتا کہ اگلے سال میں تمہارے درمیان موجود ہوں گا "
اس علم کا اظہار تھا ، جو دنیا کے کسی فرد کو حاصل نہیں ۔ کوئی نہیں جانتا کہ اسکی رحلت کا کونسا وقت مقرر ہے ۔ آپؐ نے خدشہ ظاہر نہیں کیا ، بلکہ واضع اعلان فرمایا ۔ اسلئے یہ خیال رکھنا کہ آپؐ کو کچھ غائب علوم کا علم نہیں تھا ، آپؐ کے مقام و مرتبہ کی نفی کا ایک پہلو ہے ۔ فرمایا
" میری باتیں غور سے سنو اور ان لوگوں تک پہنچا دو جو یہاں نہیں پہنچ سکے "
یہ الفاظ ملت کی تربیت اور ابلاغ کی ذمہ داری کی سپردگی تھی ۔ آپؐ کا حکم ماننا ، ایمان کامل کا ایک واجب حصہ ہے ۔ آپؐ نے جو فرمایا ، اس پر کیوں ، کیسے اور کب کا اختیار کسی کے پاس نہیں ۔ جو فرمایا اسکی من و عن اطاعت ضروری ہے ۔ آپ کا حکم کہ
" میری باتیں غور سے سنو "
تقاضا کرتا ہے کہ آپؐ کے ہر ہر لفظ پر پورا انہماک ہو ۔ ہم اسلام کی داعی ہیں مگر کیا ہم نے آپؐ کو غور سے سنا ؟ اگر سنا ہوتا تو آپؐ نے فرمایا تھا کہ آپؐ کے احکامات کو ان لوگوں تک پہنچا دیا جائے ، جو اسوقت موجود نہیں تھے ۔ کیا یہ کام کیا گیا ؟ ہم نے تو ابلاغ کیلئے اپنی اختراعات کو لازم کر لیا ۔ اپنی مرضی کی تشریح بنا لی ۔ سادے اور بلیغ پیغام کو مشکل ترین کر ڈالا ۔ آپؐ کی ذات سے اپنی مرضی اور اپنے مفاد کے بیشمار افسانے گھڑ ڈالے ۔ اپنے اپنے عقائد پر ڈٹ گئے اور انہی عقائد کو پھیلانے کیلئے رات دن ایک کر ڈالا ۔ آپؐ نے تو نفاق اور تفرقہ پھیلانے سے منع فرمایا ۔
کیا ہم رک گئے؟
ہماری محفلیں تو سیاست کیلئے جمتی ہیں - ثقافت کے نام پر فحش اور لچر گفتگو ہمارا موضوع ہوتا ہے ۔ ہم تو اپنے الگ الگ قائدین کی مدح سرائی میں لگے رہتے ہیں ۔ کیا ہم آپؐ کے پیغام کو اپنے اپنے حلقہ احباب میں پھیلا رہے ہیں ؟ سوچنا ہو گا ۔ ایمان کامل رکھنا ہے تو آپؐ نے جو کہا وہ کرنا ہوگا ۔
آزاد ھاشمی
١٣ اگست ٢٠١٩
Tuesday, 13 August 2019
اشرف الانبیاء ﷺ کا آخری خطبہ حج (١)"
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment