" حقوق "
ہمارے معاشرے میں , جس بات کا رونا اکثر رویا جاتا ہے , وہ ہیں حقوق . آزادی تحریر و تقریر , اپنی ذات کا دفاع , اپنے عقیدے کی آزادی , اچھی تعلیم کے وسائل وغیرہ وغیرہ حقوق کے ضمن میں شمار ہوتے ہیں . میرا حق ہے کہ میں اپنی مرضی کی زندگی جی سکوں . کسی سیانے کا قول ہے کہ جہاں دوسرے کی ناک شروع ہوتی ہے وہاں آپ کی آزادی ختم ہو جاتی ہے . حقوق کے ساتھ اگر فرائض مربوط نہ ہوں تو حقوق کا مطالبہ مہمل ہے . اسلام کی تعلیم اسی فلسفے پر ہے کہ اپنے حقوق سے پہلے اپنے فرائض کو ادا کیا جائے . اور دوسرے کے حقوق کا ایسے ہی خیال رکھا جائے , جیسے آپ اپنے حقوق حاصل کرنا چاہتے ہیں . ذمی سے فدیہ لینے سے پہلے اسکے حقوق پورا کرنا لازم ہے .
سرور کائنات نے اپنی پوری زندگی میں کوئی ایسا عمل نہیں کیا کہ جس سے کسی کے حقوق سلب ہوتے ہوں . یہاں تک کہ مخالف یہود قبائل , عیسائی اور بت پرستوں کو آزار نہیں پہنچائی . نہ انکی مذہبی آزادی کو روکا , نہ کوئی جبر کیا کہ اسلام قبول کرایا جائے . انکے جان و مال کی مکلمل ضمانت دی گئی تاوقتیکہ کہ وہ خود فساد پر آمادہ نہ ہوں . یہاں تک کہ جنگی قیدیوں کی عزت نفس کو بھی نشانہ نہیں بنایا گیا . مفتوحہ علاقوں کو بھی اسی طرح رکھا گیا , جیسے اپنی سرزمین . تبلیغ و تربیت میں بھی اخلاقیات کا پورا پاس رکھا گیا .
آج ہم اخلاق باختہ لہجے میں بول کر سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارا حق ہے اور جس کی توہین کر رہے ہیں یہ اس پر فرض ہے کہ خاموشی سے سنے بھی , برداشت بھی کرے اور احتجاج کیلئے زبان بھی نہ کھولے .
اسلام امن اور تحمل کا دستور ہے . اسکے قواعد اپنائے بغیر نہ امن ممکن ہے اور نہ ایمانیات کے تقاضے پورے ہوتے ہیں . حواس باختگی کی انتہا ہے کہ اگر کسی سے کہا جائے کہ کسی بھی مخالف کو طعن و تشنیع نہ کی جائے , تو لوگ بغیر توقف کے رائے قائم کر لیتے ہیں . کہ یہ بندہ یقینی اسی مسلک سے وابستہ ہے . میرا بھی حق ہے کہ وہ کہوں جسے سچ مانوں . میرا فرض ہے کہ مخالف کے خیالات پر دلیل نہ ہو تو خاموشی اختیار کر لوں . اگر ہم سب اسے اپنی روش بنا لیں تو حقیقی امن ممکن ہے .
ازاد ھاشمی
Wednesday, 1 November 2017
حقوق
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment