Wednesday, 1 November 2017

جرم اور سزا

" جرم اور سزا "
ایک مسلمان کیلئے ہر وہ عمل جرم ہے , جس سے احکامات ربی کی سرکشی اور سرتابی کی جائے , جس سے معاشرتی زندگی میں فساد پھیلتا ہو اور جو اسوہ رسول صل اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے متضاد ہو . ایسے تمام جرائم کی اللہ نے حدود واضع کر رکھی ہیں . تمام اسلامی سزائیں , اس  امر کی یقین دہانی ہے کہ جرم کو روکنا اصل مقصد ہے . جرم کا مرتکب کوئی بھی ہو , سزا اسکا مقدر ہے . کوئی عذر , کوئی حالت اور کوئی رتبہ و مقام ان سزاوں میں تخفیف نہیں کر سکتا . سزا میں ڈھیل دینے , صوابدیدی اختیارات استعمال کرنے اور نظریہ ضرورت کے مطابق مجرم کی اعانت کرنا , براہ راست جرم کی پشت پناہی ہے . یہی وہ اسباب ہیں , جس کی بنا پر تمام مروجہ قوانین جرائم روکنے میں ناکام ہیں . وکلاء کی چابکدستی مجرموں کو پیشہ ور جرائم کا سرغنہ بنا دیتی ہے . پولیس , جج اور دیگر ایجنسیاں ان جرائم کی افزائش کر رہی ہیں , جس سے بدامنی , عدم تحفظ اور معاشرتی امن مخدوش ہو گیا ہے . مجرم کو ملنے والی سزا , متاثرہ اشخاص کے حقوق کا تحفظ ہے , اور یہی حکمران کی ذمہ داری ہے کہ ہر شخص کو اسکے بنیادی حقوق دے اور اسکے جان , مال اور عزت کا تحفظ کرے . جن قوموں سے عدل کی یہ کیفیت چھن جاتی ہے وہ قومیں جلد یا بدیر تباہ ہو جاتی ہیں . آفات ارضی و سماوی کا نشانہ بن جاتی ہیں . بھوک اور افلاس ایسی قوموں کا  مقدر ہو جایا کرتا ہے . کچھ ایسا ہی ہمارے ساتھ ہو رہا ہے . مورد الزام کون . یہ کبھی فیصلہ نہیں ہو سکا . اس کا جواب اگر ہے تو صرف اسلامی حدود و قیود میں . جرم کی سزا کا جو پیمانہ اللہ نے مقرر کر دیا ہے , وہی انصاف ہے وہی عدل .
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment