معصوم سی شکل , مختصر سی گفتگو , ہر کسی کی تکلیف پر تڑپ جانے والا دل , پھیکی پھیکی سی مسکراہٹ - یہ تھوڑا سا تعارف ہے اس خاتون کا , جس کی شکل میں مجھے اپنی بہن دکھائی دیتی تھی - عمر میں مجھ سے بہت چھوٹی تھی مگر میں اسے آپی کہہ کے پکارتا تھا - آج وہ کچھ کہنا چاہتی تھی - میں نے پوچھا -
" کیا بات ہے میری پیاری سی بہن - آج اتنی اداس کیوں ہو "
آج اسکے چہرے پہ نہ مسکراہٹ تھی , نہ زبان پہ صبر کا تالا -
" آپ میرے بھائی ہو , میرے بڑے بھائی - سن نہیں سکو گے - میرے کرب کی کہانی بیس سال کی کہانی ہے - جب میرے گھر والوں نے اس بندے کو میرا مالک بنا دیا - میں ہر ہر روز اسکے جبر کا نشانہ بنتی رہی - ایک ایک لقمے کے بدلے میں ایک ایک گالی - ایسا تو کوئی کتے کے ساتھ بھی سلوک نہیں کرتا - میں نے ہر حال میں اسکی پرستش کی ہے - میں ان بیس سالوں میں ایک دن بھی سکھ کا سانس نہیں لے سکی - میرے ہاتھ کی ساری انگلیاں ایک ایک کر کے توڑ چکا ہے "
وہ خاموش ہو گئی -
آپ نے اسکا ذکر کبھی اپنے گھر والوں سے کیا - میں نے پوچھا -
" نہیں - میں اپنی ماں کو دکھی نہیں دیکھ سکتی - میرا باپ غریب تھا , میں جانتی تھی وہ برداشت نہیں کر سکے گا -میرے بھائی خود غرض ہیں , ویسے بھی شوہر کی عزت ہر حال میں مقدم تھی میرے لئے "
" پچھلے دس سال سے گھر میں بیٹھ کر کھا رہا ہے - میں دن میں بارہ سے چودہ گھنٹے محنت مزدوری , سلائی کڑھائی , کباب بنا کر گھر کے اخراجات چلا رہی ہوں "
میرا صبر بھی ٹوٹ رہا تھا -
" کدھر ہے کتا , اسکی دم سیدھی کرنا ہو گی- "
" نہیں بھائی جان ! الله کرے اسے ہدایت آ جاۓ - یہ گھر آج بھی اسکا ہے - اس عمر میں کہاں جاۓ گا "
میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے - خلوص , قربانی , در گزر ایک نیک عورت کا زور ہوتا ہے - اسکا اندازہ آج ہوا -
سلام تیرے جیسی تمام عورتوں کو اے میری صابر بہن -
(آزاد ہاشمی )
Wednesday, 1 November 2017
بخت کا باغی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment