Sunday, 8 October 2017

شہید کی زندگی کا شعور

" شہید کی زندگی کا شعور "
یہ ان دنوں کی بات ہے , جب ہم پبلک سروس کے امتحان کی تیاری کر رہے تھے . میرے ایک دوست علم و قابلیت میں کہیں زیادہ آگے تھے . اسلامی فقہ , منطق اور دیگر مسائل پہ کافی عبور رکھتے تھے . یہ وہ دن ہوتے ہیں جب مختلف موضوعات کے کھوج کی لگن عروج پر ہوتی ہے . موصوف کو زچ کرنے کیلئے کبھی کبھی ایسے سوال بھی کرتے تھے , جن کا امتحان کی تیاری سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا تھا . ایسے ہی ایک دن ایک دوست نے ان سے پوچھا کہ
" تم شیعہ لوگ کربلا کے شہیدوں کا ماتم کیوں کرتے ہو . وہ تو زندہ ہیں , اپنے رب کے ہاں سے انہیں رزق ملتا ہے "
یہ وہ سوال تھا , جو عام طور پر کیا جاتا ہے . قران پاک کا یہ حوالہ ماتم کے خلاف دلیل سمجھی جاتی ہے . اب موصوف مسکرائے اور کہنے لگے .
" ہم شیعہ کے ماتم پر اعتراض تو غیر شیعہ کا حق ہے . مگر دلیل کو اسکے سیاق و سباق سے پیش کرنا , مثبت بحث ہو گی . ہر اس شیعہ کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں جو قران کی کسی ایک آیت کا انحراف کرتا ہے . شہید کا زندہ ہونا درست , اللہ کے ہاں سے رزق کا ملنا درست . پھر اللہ کا یہ کہنا کہ تمہیں اس زندگی کا شعور نہیں . اور اس پر ضد کرنا کہ ہمیں شعور ہے . شہید ایسے ہی زندہ ہے جیسے میں اور آپ . ہر گز درست سمت نہیں "
وہ خاموش ہو گیا . پھس پھسی سی دلیل تھی .
" آپ لوگ بتاو کہ شہید کی بیوی پر بیوہ والے اصول لاگو ہو جاتے ہیں یا نہیں . شہید کے بچے یتیم ہو جاتے ہیں یا نہیں . شہید کی وراثت کی تقسیم , زندہ والی ہوتی ہے یا وفات پانے والے جیسی " 
" بحث مقصد نہیں , اصول بتائیں کہ فقہ کیا کہتی ہے , قران کیا کہتا ہے اور عقل کیا کہتی ہے . قران نے ایک ایک لفظ حقیقت پر کہا ہے اور اس بحث کو یہ کہہ کر ختم کر دیا کہ شہید کی زندگی کا , شہید کے رزق کا اور شہید کے مقام کا انسانی شعور سے باہر ہے . میں یہ دلیل ماتم کے حق میں نہیں , آیت مبارکہ کی تشریح کے طور پر کر رہا ہوں . میری راہ اور آپکی راہ اختلافات کا باعث کیوں ہو . میرے اوپر فرض نہیں آپ لوگوں کو شیعیت پڑھاوں . آپ بھی اپنے عقائد میرے دماغ میں مت ٹھونسنے کی کوشش کریں . یہاں سے فساد کی راہ کھلتی ہے اور فساد اللہ کو پسند نہیں "
اس بات کو آج چالیس سال سے زاید کا عرصہ ہو گیا . مگر جب بھی یہ سوال سنتا ہوں کہ شیعہ زندہ کا ماتم کرتے ہیں تو مجھے اطہر گردیزی یاد آ جاتا ہے .
کتنا اچھا ہو کہ ہم کوئی ایسی بحث نہ چھیڑیں جس سے فساد پھیلے . جیسے ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے عقائد کی تضحیک نہ ہو , ویسے ہی ہم دوسرے کے عقائد کی
تضحیک نہ کریں . جیسے ہم نہیں چاہتے کہ کوئی ہمیں کافر  کہے , ویسے ہی ہم کسی دوسرے کو کافر نہ کہیں . شاید اس سے مثبت تبادلہ خیال کی فضا بھی قائم ہو جائے اور ایک دوسرے کی.اصلاح بھی ہونے لگے .
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment