Sunday, 8 October 2017

منکر اور کافر

" منکر اور کافر "
حکم ربی ہوا , فرشتوں کی سرداری پر بیٹھے ہوئے , فرشتوں کی قبا میں ایک جن کو کہ آدم کو سجدہ کرو . اس نے انکار بھی کیا , حجت بھی پیش کی اور دلیل بھی سامنے رکھ دی . اس پر لعین بھی ہو گیا , ابلیس بھی , شیطان بھی اور مردود بھی .
اس نے اللہ کی وحدانیت , عبادت اور ریاضت سے انکار نہیں کیا .
یہ ثبوت ہے کہ حکم ربی سے انکار کے بعد , تمام عبادت , تمام ریاضت اور تمام نیکیاں اکارت ہو جاتی ہیں . پھر ایک ہی راستہ باقی رہ جاتا ہے کہ  توبہ کا دروازہ کھٙکھٹایا جائے .
اب ذرا محاسبہ کیا جائے کہ ہم اللہ کے کتنے احکامات سے سر کشی کرتے ہیں . اپنی سرکشی کی کتنی توجیہات پیش کرتے ہیں . کتنے دلائل دیتے ہیں اپنی سر کشی کے جائز ہونے پر . توبہ کیطرف لوٹے بغیر اللہ سے اپنی دعاوں کی قبولیت بھی مانگتے ہیں . اور دعوی بھی کرتے ہیں کہ ہم اللہ کی پسندیدہ امت سے ہیں . دعوی کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے حبیب صل اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے ہیں .
ایک زانی اللہ کے حکم کی سرتابی کرتا ہے , ایک شرابی اللہ کے حکم سے بغاوت کرتا ہے , ایک جواری اللہ کے حکم کا انکار کرتا ہے . پھر بھی خود کو مسلمان کہنا , کس حد تک جائز ہے . پھر کفر کیا ہے , منکر کون ہے .
اللہ کی حاکمیت کو مانتے ہیں , مگر اسکی حدود سے عملی طور پر منکر ہیں . جو خود شیطان کیطرح سرکش ہے , شیطان کی پیروی کرتا ہے , وہ دوسروں کو فروعی مسائل پر کافر کہنے سے دریغ نہیں کرتا . کیا اسے اللہ سے مکر کرنا نہیں کہیں گے .
  اللہ نے حکم دیا کہ میری رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو . کیا ہم نے اس حکم سے انحراف نہیں کیا . اللہ نے فرمایا کہ پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو جاو . مگر ہم صرف نماز پڑھ کے , حج کر کے , روزہ داری کر کے سمجھتے ہیں کہ ہم نے اطاعت کا حق ادا کر دیا . اطاعت تب ہے جب ہر حکم ربی کو لاگو کر لیا جائے , نہیں تو اللہ کے ساتھ مکر ہے .
ازاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment