Sunday, 8 October 2017

رونا فطرت انسانی

" رونا فطرت انسانی "
دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں , جو حقیقت میں انسانی جبلت سے آراستہ ہو , اور رویا نہ ہو . احساس کی انتہائی حد آنسو ہے . اللہ کے نبی اور رسول بھی روئے , اولیاء اور اصفیاء بھی روتے ہیں . عابد خضوع و خشوع کی حالت میں روتے ہیں . سجدوں میں گرنے والے آنسو اللہ کو محبوب ترین ہیں . مختصر یہ کہ رونا عیب کبھی نہیں تھا , ہر حال میں خوبی ہی تھا . انسان ہمیشہ عاجز رہے گا , عجز کا بہترین اظہار رونا ہے . اللہ سے مانگنے کا بہترین طرز رونا ہے .
کربلا , جبر و استبداد کا وہ نمونہ ہے کہ  کوئی بھی  باپ اسے  اپنی اولاد پر رکھ کر سوچے تو روئے بغیر نہیں رہ سکے گا . کونسا دل ہے جس پر یہ قیامت ٹوٹے گی اور وہ روئے گا نہیں . 
بات صرف احساس کی ہے , کہ کربلا کو ہم مسالک کی آنکھ سے دیکھتے ہیں . یہ نہیں سوچتے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی آل پی کیا گزری . کون ماں نہیں روئے گی , کون باپ نہیں روئے گا , کون بہن نہیں روئے گی . جب اسکا بھائی , اسکا بیٹا , اسکا باپ اسکی آنکھوں کے سامنے چھلنی کر دیا جائے , گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روند ڈالا جائے . کون نہیں روئے گا , جب اسکے گھر کی پردہ داروں کو بازاروں میں رسیوں سے جکڑ کر گھمایا جائے گا . اس بے بسی پہ اگر آنکھیں پر نم نہیں ہونگی - تو کسی یزید کی نہیں ہونگی , کسی ہلاکو کی نہیں ہونگی , کسی شیطنت سے اٹے ہوئے ذہن کی نہیں ہونگی .
جس دل میں درد ہو گا, احساس ہو گا , انسانیت ہو گی , حب رسول ہو گی , وہ دل ضرور تڑپے گا . وہ آنکھ ضرور برسے گی .
میری نظر میں , وہ آنسو جو آل رسول کے درد میں بہتے ہیں , اللہ کے ہاں محبوب آنسو ہیں . دعا کرو کہ اللہ ایسے ہی آنسو نصیب کرے جو آل رسول کے درد پہ بہیں . ایسے آنسووں سے پناہ مانگو جو اپنے درد پر بہانے پڑیں .
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment