" سکینہ کا صبر "
کربلا پہ جو بھی ہوا , غم کا ایسا باب ہے جو کبھی تاریخ کے اوراق پر دوبارہ نہیں لکھا جائے گا . اسی باب کا حصہ ایک معصوم بیٹی ہے . جو خیمے کا پردہ ہٹا کر بار بار دیکھتی کہ کب چچا عباس پانی کا بھرا مشکیزہ لائیں گے . اور وہ بھاگ کے پیاسے علی اصغر کے ہونٹوں کو سیراب کرے گی . جب اس نے چچا کے کٹتے بازو دیکھے , مشکیزے میں لگتا تیر دیکھا , جو دکھ کا تیر , اسوقت معصوم سکینہ کے دل میں اترا , جو درد سکینہ کو ہوا . قیامت تک چشم فلک نہیں دیکھے گی . ایک سسکی اور ایک ٹھنڈی آہ کے سوا سکینہ کے پاس کچھ نہیں تھا . اسکے سارے آنسو تو , جوان بھائی کے سینے لگی برچھی دیکھ کر ہی ختم ہو گئے تھے . اب علی اصغر کی آنسووں سے بھی تشنگی نہیں مٹا سکتی تھی . سوائے بیمار بھائی اور مظلوم باپ کے کوئی باقی نہیں تھا . کہ جا کر کہتی علی اصغر کو پانی لا دو . اس معصوم کو اپنی پیاس یاد ہی نہیں تھی . سکینہ کا وہ لمحہ جب مظلوم بابا کو آخری وداع تھا . سوچا کہ بابا کی سواری کے قدموں سے لپٹ جاتی ہوں , بالکل ایسے ہی جیسے ہر بیٹی باپ کے قدموں سے لپٹ کر باپ کو روک لیا کرتی ہے . مگر سکینہ کو کیا پتہ کہ بابا کی سواری دین کی سربلندی کے سفر پہ جا رہی ہے . جہاں اللہ کی محبت کے سامنے تمام محبتیں ہیچ ہوتی ہیں . کوئی ایک آرزو نہیں تو جو پوری کر لیتی . آنکھوں میں ان گنت سوال تھے , مگر سوکھے ہونٹ چپک کر رہ گئے تھے . ماں دیکھتی تو رو لیتی , پھوپھی دیکھتی تو رو لیتی , بیمار بھائی دیکھتا تو آہ بھر لیتا . سکینہ نے رونا بند کردیا . بابا کو گھوڑے سے گرتے دیکھ لیا , کٹتا سر دیکھ لیا , بابا , چچا , بھائیوں کے جسم گھوڑوں کے قدموں تلے روندتے دیکھ لئے . ابھی جلتے خیمے دیکھے گی , اپنی پھوپھی کے سر سے کھنچتی چادر دیکھنی ہے . ہاتھوں میں رسیوں کے نشان دیکھنے ہیں . پھر سکینہ نے سب دیکھا . نہ رو سکی نہ ضد کی . صبر کی تصویر بنے کبھی ادھر دیکھتی کبھی ادھر . آسمان کیطرف بھی دیکھ کر نہ شکایت کی نہ گلہ .
جب ننھے سے گالوں پر منافق اور اللہ کے رسول کی آل کے دشمن نے بھر پور تھپڑ مارا تو صبر کے وارثوں کی معصوم سکینہ نے سرد آہ بھری , آنکھوں سے حسرت کے چند آنسو , چند سسکیاں .
حیران ہوں کہ جنت کے سرداروں کا صبر تو بے مثال تھا ہی , انکے جگر گوشوں کے صبر کا بھی ثانی نہیں . سلام سکینہ , سلام سکینہ تیرے صبر کی عظمت کو .
ازاد ھاشمی
Sunday, 8 October 2017
سکینہ کا صبر
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment