" لعنت اور مذمت کافی نہیں "
جب ہم مذہب کو سامنے رکھتے ہوئے ، لفظ قوم استعمال کرتے ہیں تو اسکا مطلب جغرافیائی حدود سے الگ ہوتا ہے ۔ پھر ہم نہ افغانی ہیں ، نہ پاکستانی ، نہ عرب ، نہ ایرانی اور نہ ہی کوئی دوسری شناخت لازم ہوتی ہے ۔ یہ وہ ضرورت تھی جو ہم نے بھلا دی ۔ جب ایک مسلمان بچے کو ، کافر مارے گا تو اس نے میرا بچہ مارا ہے ۔ ہر مسلمان کا بچہ مارا ہے ، ہر کلمہ گو کا بچہ مارا ہے ۔ مارنے والا ہر اس مسلمان کا دشمن ہے جو کلمہ پڑھتا ہے ۔ یہ وہ سوچ تھی جو ہم مسلمانوں میں پروان نہیں چڑھ سکی ۔ آج سو حفاظ کرام کو امریکی جارحیت نے شہید کر دیا ۔ اگر مسلمان ، حقیقی مسلمان ہوتے تو امریکہ سے پوچھ لیتے کہ تمہیں دوسرے ممالک کے اندر خونریزی کا اختیار کس نے دیا ۔ مگر ہم کیا کریں گے ، پرزور مذمت ، چند جلسے و جلوس اور لعنت بر امریکہ کے دیاوروں پہ پوسٹر لگا دیں گے ، مسلمان اتنی طاقت میں ہیں کہ ایسی جارحیت پر امریکہ کے خلاف دیوار کھڑی کر سکتے تھے ۔ مگر ایسا کچھ نہیں ہوگا ۔ کیونکہ ہمارے حکمرانوں کی اکثریت امریکہ کے پٹھو ہیں ۔ چلیں ! اگر حکمران غیرت نام کی چیز سے ناآشنا ہوہی گئے ہیں ، تو امت مسلمہ ایک آواز بن جائے تو دنیا کی کوئی طاقت جارحیت کا سوچ بھی نہیں سکتی ۔ ستم یہ ہے کہ ہم نے مسلمان بن کر سوچنا چھوڑ دیا ۔ ہم اللہ کے احکامات سے غافل ہو گئے ، اللہ سے ڈرنا چھوڑ دیا تو اللہ نے طاغوت کا خوف ہم پر مسلط کر دیا ۔ اللہ کی حکمرانی کو زندگیوں سے نکال دیا ، کفر عملی حکمرانی کرنے لگا ہے ۔
آزاد ھاشمی
Tuesday, 3 April 2018
لعنت اور مذمت کافی نہیں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment