Tuesday, 3 April 2018

اصل نیکی

" اصل نیکی "
سورہ بقرہ میں ارشاد باری تعالی ہے کہ
" نیکی بس یہ  ہی نہیں کہ مشرق یا مغرب کیطرف منہ کر لیا جائے ۔  نیکی یہ ہے کہ اللہ پر ،  یوم آخرت پر ، فرشتوں پر ، انبیاء پر اور اللہ کی کتابوں پر ایمان لایاجائے ۔ اور اپنا مال رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں  ، سوال کرنے والوں اور مسافروں کو دیں ۔ اور غلاموں کو آزاد کرانے میں خرچ کریں ۔ اور نماز قائم کریں اور زکواة دیں ۔ اور جب کوئی عہد کر لیں تو اسکو پورا کرنے کے عادی ہوں ۔ اور تنگی اور تکلیف میں ، نیز جنگ کے وقت صبر اور استقلال سے کام لیں ۔ یہی لوگ سچے ہیں اور یہی لوگ متقی ہیں "
اللہ سبحانہ تعالی کی روشن اور پر دلیل کتاب میں ، جو رہنمائی فرمائی گئی ، اسکا سارا فلسفہ صرف عبادت تک محدود نہیں ۔  رکوع و سجود کی اپنی ایک اہمیت ہے ، مگر نیکی کا معیار مختلف مقرر کیا گیا ۔ جس کی درجہ بندی بالکل واضع اور عام فہم ہے ۔ کوئی مغالطہ نہیں رہ جاتا کہ تقوی کا اصل معیار کیا ہے ۔ نیکی کی تشریح جسطرح فرمائی گئی اس میں حقوق العباد کی واضع درجہ بندی فرما دی گئی ہے ۔ عبادات کو بھی واضع فرما دیا ، ایمان کے اہم پہلو بھی بتا دئیے ۔ جو چیز بہت واضع ہے کہ اللہ کی عطا کردہ تمام استطاعتیں ، تمام وسائل اور تمام ثمرات صرف میرے یا آپکے نہیں ہیں ۔ ان میں کن کن لوگوں کے حقوق شامل ہیں ۔ اس آیت مبارکہ میں کھول کھول کر بیان ہوئے ہیں ۔  اگر ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ اپنی ذات کو عبادات تک محدود کر کے ہم نے تقوی کا مقام حاصل کر لیا ، اور ہم صداقت کے معیار کو پورا کر رہے ہیں تو یہ خام خیالی ہے ۔ تقوی کے درجہ تک پہنچنے کے شرائط اس آیت میں ایک ایک کر کے بیان فرما دی گئی ہیں ۔ ہمارے اوپر فرض ہو گیا کہ ہم ان سب پر ایک ایک کر کے عمل کریں ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment