Sunday, 1 April 2018

علیؑ مولود کعبہ

"علیؑ مولود بیت اللہ "
اللہ سبحانہ تعالی نے اپنے خلیلؑ کو حکم دیا کہ ذبیح اللہ کے ساتھ مل کر میرے گھر کی تعمیر کرو ۔ اللہ کے دو انبیاء کے ہاتھوں سے اس حکم کی تعمیل ہوئی کہ کعبتہ اللہ تعمیر ہوا ۔ اس گھر کی عظمت کہ طلوع اسلام کے بعد اسے عبادت کا مرکز اور نشان بنا دیا گیا ۔ ہزارہا سال کی تاریخ میں اس جگہ کو عزت و احترام کی جگہ ہی سمجھا گیا ۔ بت پرست بھی اسکی طہارت اور پاکیزگی کا خیال رکھتے رہے ۔ اگر ہم پوری تاریخ کا ایک ایک صفحہ الٹ دیں ، کہیں نظر نہیں آتا کہ اس گھر کی حدود میں کوئی ایک تولید انسانی کا واقعہ پیش آیا ہو ۔ کسی ایک انسان کو یہ اعزاز ہو کہ جب اس سے پوچھا جائے کہ"  آپکی جائے ولادت " تو وہ کہہ سکے کہ " اللہ کا گھر " ۔ یہ اعزاز اگر نصیب ہوا تو صرف اور صرف " ابو طالب " کے بیٹے " علی " کو ۔
میں اکثر سوچتا ہوں کہ آخر کیا وجہ تھی کہ پوری کائنات میں صرف ایک بچہ " اللہ کے گھر " میں پیدا ہوا ۔ ظاہر ہے کہ مکین کی مرضی کے بغیر کوئی مکان میں داخل نہیں ہو سکتا ۔ اللہ کی رضا تھی کہ یہ بچہ اسکے گھر میں آنکھ کھولے ، اسکے حبیبؐ کی تربیت میں پروان چڑھے ۔ اتنی شجاعت والا ہو کہ دنیا میں مثال نہ ملے ۔ دنیا میں جو انعامات اس بچے کو نصیب ہوئے ، تا قیامت بیمثال رہیں گے ۔ کوئی معرکہ نہیں کہ جہاں علی ہو اور شکست ملی ہو ۔ خاتون جنت زندگی کی رفاقت میں نصیب ہو ، حسن ؑ اور حسین ؑ جیسے بیٹے ہوں ۔ زینب جیسی بیٹی ہو ۔ گویا اگر تقابل کا ہر پیمانہ آزما لیا جائے ، جو مقام " مولود کعبہ " کو ملا ، کسی دوسرے کو اسکا عشر عشیر بھی نصیب نہ ہوا ۔
مواخات میں ، کائنات کا ہادیؐ اعلان کرے کہ میری مواخات میں علیؑ  ہے ۔ میرا بھائی علیؑ ہے ۔ علیؑ  ہے میرے علم کا دروازہ ۔ علی ہے میری امانتوں کا امین ۔
میں اپنی کم علمی پر نادم ہوں کہ شاید زندگی پر لکھتا رہوں ، مگر وہ الفاظ نہیں لکھ پاوں گا جو علیؑ کی شان کا اظہار کر سکیں ۔ اپنے احساسات کا " الف " نہیں لکھ سکتا ، جس سے شان علیؑ کی تحریر کا حق ادا ہو جائے ۔ اللہ جانے کہ علیؑ کی ولادت کا اہتمام اپنے گھر میں کیوں کیا ۔ اللہ کا نبی جانے کہ علیؑ کو بیٹی کیوں عطا کی ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment