" احسان کا حکم "
سورہ النساء میں ، اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ۔
" اور اللہ کی عبادت کرو اور کسی کو شریک نہ ٹھہراو ۔ اور والدین کے ساتھ احسان کے سلوک سے پیش آو ۔ رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں ، قریب اور دور والے پڑوسیوں ، اور ساتھ بیٹھے یا کھڑے شخص ، اور راہگیر اور اپنے غلام اور باندیوں کے ساتھ احسان کرو ۔ بیشک اللہ اترانے والے اور شیخی باز کو پسند نہیں کرتا "
کتنی خوبصورت تعلیم معاشرت ہے جسکا اللہ سبحانہ تعالی نے جس کا حکم دیا ۔ اللہ کی عبادت اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانے کے حکم کے ساتھ ، حسن خلق کو احسان کی شکل میں پیش کرنے کی تعلیم دی ۔ ماں اور باپ کا مقام مسلم ہے ۔ اسکے بعد جس جس سے احسان کے سلوک کا حکم ہوا ہے ۔ اگر اسے عملی زندگی کا حصہ بنا لیا جائے تو معاشرے کی ہر تلخی از خود دم توڑ دیتی ہے ۔ اقرباء اولیت میں ہیں ، مساکین ، یتٰمیٰ ، حتی کہ پڑوسی کے رشتے کو صرف قریبی پڑوسی تک محدود نہیں رکھا ، بلکہ دور کر پڑوسی کو بھی شامل فرمایا ۔ جب ہم دور کے پڑوسی کو دیکھتے ہیں تو پوری پوری آبادیاں شامل ہو جاتی ہیں ۔ اس سے اور آگے دیکھیں تو ہمارے احسان کے حقدار وہ سب لوگ ہیں جو ساتھ بیٹھے ہوں ، جیسے کسی سفر میں ، جیسے کسی محفل میں اور جیسے کسی تقریب میں لوگ ایک ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں ۔ سب کے حقوق لاگو ہو جاتے ہیں کہ ان پر کوئی چیز گراں نہ گذرے ۔ اللہ کی ذات کسقدر کریم ہے اور کسقدر معاشرت کو خوبصورت دیکھنا مقصود ہے ۔ یہاں تک فرما دیا کہ جو تمہارے ساتھ کھڑے ہوں ان پر بھی احسان کرو ۔ یہ ساری تعلیم اس لئے بھی اہم ہے کہ ذاتیات کو اولیت دینے سے دوسرے حقوق پامال ہو سکتے ہیں ۔ جو کسی بھی معاشرے کے بگاڑ کا باعث بنتا ہے ۔ خود بینی اور خود ستائش اکثر دوسروں پر جبر کو جنم دیتی ہے ۔ یہی وہ عیب ہے جو تکبر کیطرف مائل کرتا ہے اور یہی تکبر معاشرے میں اونچ نیچ کی تمیز پیدا کرتا ہے ۔ اسی لئے نے واضع کر دیا کہ اللہ کسی شیخی باز کو ، اور سترانے والے کو پسند نہیں کرتا ۔
ہم ان احکامات پر عمل کریں تو بیشمار مسائل از خود حل ہو جاتے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
Tuesday, 3 April 2018
احسان کا حکم
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment