" قران رب سے باتیں "
باب العلم حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا ۔
" میں جب چاہتا ہوں کہ رب سے باتیں کروں تو میں نماز پڑھتا ہوں اور جب چاہتا ہوں کہ رب مجھ سے بات کرے تو قرآن پڑھتا ہوں "
نماز کا مفہوم اور قرآن کی بلاغت کا اس سے بہتر اظہار ، صرف باب العلم ہی فرما سکتا ہے ۔ عام فلسفی کے بس کی بات نہیں ۔ ہم نے ایسی نماز نہ پڑھی اور نہ سیکھی کہ نماز میں اتنا انہماک ہو جائے کہ ہم اللہ سے باتیں کریں ۔ ہم نے تو نماز کو ایک ڈیوٹی کیطرح اپنا لیا ۔ یہی تعلیم ملی کہ نماز فرض ہے اور ایسا فرض کہ جسکی ادائیگی لازم ہے ۔ یہ کسی نے بتایا ہی نہیں کہ یہ وہ فرض ہے جس میں اللہ سے باتیں کی جاتی ہیں ۔ اگر یہ تعلیم مل جاتی کہ ہم اللہ کے حضور حاضری دینے کیلئے ہی نہیں اللہ سے باتیں کرنے کیلئے کھڑے ہوتے ہیں ۔ تو خضوع و خشوع از خود حاصل ہو جاتا ۔ پھر اللہ کی پاک ذات بھی قریب ہو کر سنتی ۔ جب ہم کہتے کہ اے اللہ ہمیں سیدھے راستے پر چلا تو یقینی طور پر سیدھا راستہ مل جاتا ۔ جب کہتے کہ ان کے راستے پر چلا جن پر تو نے انعامات کئے تو یقینی طور پر حسینیت کی راہ نظر آ جاتی ۔ آج ہم جس الجھن کا شکار ہیں اس الجھن میں نہ ہوتے ۔ ہم گمراہوں اور مغضوبین کی راہ پر نہ چل رہے ہوتے ۔
ہم نے کبھی چاہا ہی نہیں کہ اللہ ہم سے باتیں کرے ، بلکہ ایک ڈھونگ رچا لیا کہ قران سمجھ نہیں آتا ، مولوی بتائے گا تو قران سمجھ آئے گا ۔ قران کہتا ہے کہ بلیغ ہوں ، عام فہم ہوں ۔ قران کو پڑھنے لگو تو بلا شک ایسے ہی لگتا ہے کہ اللہ ہمیں طفل مکتب کیطرح ایک ایک بات بار بار کہہ کر سمجھاتا ہے ۔ ہم تو صرف وہ وظیفے از بر کرتے رہتے ہیں ، جس سے دنیاوی حاجات پوری ہوتی رہیں ۔ وہ اسم ڈھونڈھنے میں عمر گذار دیتے ہیں جس سے ہر آسانی مل جائے ۔ صرف ثواب کی تلاش اصل مدعا بن کر رہ جاتی ہے ۔
اے کاش ہم نماز کو ایسے ادا کر سکیں جیسے امام علیؑ نے فرمایا اور قران کو ایسے ہی پڑھیں جیسے باب العلم نے پڑھا ۔
آزاد ھاشمی
Thursday, 5 April 2018
قران رب سے باتیں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment