Sunday, 1 April 2018

یکجہتی لازم ہے

" یکجہتی لازم ہے  "
جو قومیں اپنے ایمانی محور سے ہٹ جاتی ہیں یا لا علم ہونے لگتی ہیں ۔ وہ قومیں اپنا استحکام ، تشخص اور مقام کھو دیا کرتی ہیں ۔ یہ ایک مسلمہ اصول ہے ۔ یہودی ، ہندو ، بدھ مت ،  عیسائی اور دیگر ایسے مذاہب ، قطع نظر وہ درست ہیں یا غلط ۔ اپنے اپنے عقائد سے بہت پختگی سے جڑے ہوئے ہیں ۔ دنیا کے کسی بھی خطے میں ان مذاہب کے ماننے والے کسی بھی فرد کو دکھ یا تکلیف پہنچتی ہے ۔ وہ اسکی مدد کو لپک پڑتے ہیں ۔ چند یہودیوں نے پورے عرب مسلمانوں کی گردن پر پاوں رکھا ہوا ہے ۔ صرف اسلئیے کہ وہ پہلے یہودی ہیں پھر کچھ اور ۔ ہم مسلمانوں میں تفریق پیدا کر دی گئی ، کس نے کی اور کیسے کی ۔ یہ ایک الگ بحث ہے ۔ آج ہماری پہلی پہچان ہمارے مسالک ہیں ۔ اگر مسالک اور فقہی سوچ تک بھی بات محدود رہ جاتی تو شاید کچھ بہتر صورت ہوتی ۔ اب بات ایک دوسرے مسلک کو فتح کرنے تک بڑھ چکی ہے ۔ جن لوگوں نے اسلام سے روشناس کرانا تھا ، وہ لوگ سارا زور اس تحقیق پر لگا رہے ہیں کہ کونسا مسلک راہ راست پر ہے اور کونسا گمراہ ۔ گویا ہم اسلام سے دور ہوگئے ۔ بحیثیت مسلمان جو یکجہتی درکار تھی وہ مفقود ہوگئی ۔ سرحدیں مضبوط فصیلیں بن گئیں ۔ اب جس کو تکلیف ہے ، اسی کا مسلہ ہے ۔ دوسرے کو کوئی سرو کار نہیں ۔ کفار جس کو چاہتے ہیں ، اپنے گلے سے لگاتے ہیں ، اسے اپنے انداز میں تیار کرتے ہیں اور مسلمانوں میں رخنہ ڈال دیتے ہیں ۔عراق ، لیبیا ، سوڈان اور شام کی تباہی کا تماشا ہم سب نے دیکھا ۔ سرحدیں اتنی اونچی تھیں کہ پوری دنیا کے مسلمان کچھ نہ کر سکے ۔
افغانستان ، ایران ، پاکستان اور یمن اگلے ہدف ہیں ، جہاں مشق ستم کی تیاری جاری ہے ۔ ہم پھر ماضی کیطرح اسی خاموشی سے ایک دوسرے کی گردن کٹتی دیکھیں گے ۔
جب تک مذہبی سوچ ایک نہیں ہوگی ۔ جب تک ہم نے اللہ کے اصل پیغام کو نہ سمجھا ، جب تک ہم دشمن اور دوست کی پہچان نہ کر سکے ، جب تک ہمارے ذہن بلوغت تک نہ پہنچ پائے ۔ تب تک ہمارے قائدین ، دشمن کے آلہ کار بھی بنتے رہیں گے ، کفر کے ہاتھ ہماری شہ رگیں بھی دبوچتے رہیں گے ۔
یہ شعور دینا ، مذہبی زعماء کا کام ہے ، قوم کے دانشوروں کا ہے اور محب وطن افراد کا ہے ۔ بد قسمتی سے یہی قوتیں ارادی طور پر خاموش ہیں ۔ ایسی صورت میں ہم سب کا فرض بن جاتا ہے کہ اس یکجہتی کیلئے نہایت خلوص سے جو کر سکیں کریں ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment