Tuesday, 3 April 2018

کفار کا راستہ اور ایمان

" کفار کا راستہ اور ایمان "
سورہ النساء میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ایک دعوے کی تصحیح فرمائی ہے ۔
" جن کو کتاب میں سے ایک حصہ دیا گیا تھا ، کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا ، کہ وہ بتوں اور شیطان کی تصدیق کر رہے ہیں ۔ اور کافروں کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ مومنوں سے زیادہ سیدھے راستے پر ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے پھٹکار ڈال رکھی ہے اور جس پر اللہ پھٹکار ڈال دے اسکا کوئی مدد گار  نہیں پاو گے "
ہمارے معاشرے میں ایک دلیل
بہت شد و مد سے دی جاتی ہے کہ اگر  کفار کے روزمرہ معاملات کو دیکھا جائے ، انکے لین دین اور طریق بود باش کو دیکھیں تو وہ معاملات  میں مسلمانوں سے بدرجہا بہتر ہیں ۔
انصاف کے ساتھ تجزیہ کرتے ہیں کہ اس تقابل میں کتنی حقیقت ہے ۔ جب ہم مسلمان کی بات کرتے ہیں تو ہر اس شخص کو مسلمان مان لیتے ہیں جس کا نام مسلمانوں والا ہے ۔ جو کلمہ پڑھ لیتا اور  اپنے جیسے  مسلمانوں کے ساتھ رہتا ہے ۔ وہ تمام لوگ جو دین سے بہت دور ہیں ، جو زنا بھی کرتے ہیں ، شراب بھی پیتے ہیں ، جوا بھی کھیلتے ہیں ، ہر بڑی چھوٹی برائی میں کوئی عار نہیں سمجھتے ۔ اللہ کے کسی حکم کی اطاعت نہیں کرتے ۔ ہم انکو مسلمان مان کر تقابل کرتے ہیں ۔ یہ اکثر برائیاں کفار میں بھی ہیں ۔ انسانی حقوق کی جو پامالی کفار اور طاغوت نے کی اسکا عشر عشیر بھی مسلمانوں نے نہیں کیا ۔ دنیا کے کتنے خطے ہیں جو ان لوگوں نے سالہا سال غصب کئے رکھے ۔ کتنی لوٹ مار کی کہ اپنے محکوموں کی نسلیں تباہ کر دیں ۔ بنی نوع انسان کی بربادی پر جتنی بھی تحقیق کی انہی شیطنت کے ذہن والوں نے کی . دنیا کے مہذب ترین کہلائے جانے والے  ممالک میں انسانیت کی کتنی تضحیک ہو رہی ہے ۔ کمزور قوموں اور طاقتور قوموں کے ساتھ روئیے مختلف ہیں ۔ اسے کونسی تہذیب کہاجائے گا ۔ کتنے ممالک کے کرپٹ لوگوں کی دولت کے انبار ان لوگوں نے چھپا رکھے ہیں ۔ کئی قوموں کے غداروں کو پناہیں ان مہذب لوگوں نے دے رکھی ہیں ۔ ایسی تہذیب کو چوری ، فراڈ ، دہوکہ دہی اور جرائم کی آماجگاہ کا نام دینا غلط نہیں ۔ اسلام کی تعلیم کو اپنایا جاتا تو وہ کونسی برائی تھی جو باقی رہتی ۔ بجائے اسکے کہ ہم اسلامی تعلیمات کو اجاگر کریں ، انکو اپنے اوپر لاگو کریں ، ہم کفار کی مدح سرائی میں زمین آسمان ایک کر دیتے ہیں ۔ اللہ کا حکم یاد نہیں رہتا کہ ایسی مدح سرائی والوں کیلئے اللہ پاک کا کیا فیصلہ ہے ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment