Friday, 24 February 2017

سوچنے کی بات یہ نہیں



سوچنے کی بات یہ نہیں
سوچنے کی بات یہ نہیں کہ ہمارے بہت سارے لیڈروں نے ملک کی دولت کو لوٹ کر بیرون ملک اپنی تجارت کو بھی فروغ دیا , بنکوں میں حفظ ما تقدم کے طور پر جمع پونجی بھی بنائی , پراپرٹی بھی خریدی -
فکر کی بات یہ ہے , کہ ہمارے لیڈر ذہنی طور پر پاکستان میں خود کو اور اپنے سرماۓ کو محفوظ کیوں نہیں سمجھتے - وہ  یا
تو  ملک  سے مخلص  نہیں  یا  پھر  لٹنے  کا خوف  ہے-
فکر کی بات یہ بھی ہے کہ یہ سرمایہ کک بیک کے طور بھی وصول کیا ہوا  نہیں , اگر ایسا ہے تو ملک کو کتنا نقصان ملا ہو گا - کیونکہ کک بیک یا کمشن دینے والے تاجر نے بھی خوب ہاتھ رنگے ہوں گے -
فکر کی بات یہ بھی ہے  کہ یہ پیسہ اگر ملک سے باہر گیا تو کسی بنک کو استعمال کیا گیا یا وزارتی وفدوں کے بریف کیسوں میں  گیا -
فکر کی بات یہ بھی ہے کہ یہ ملک سے جانے والے دھن کی خبر اپنی ایجنسیوں کو کیوں نہیں ہوتی , ہمیں یہ خبریں دوسرے بتاتے ہیں , جب  کنٹرول  نہیں  تو چوری  ہوتی رہے گی-
فکر کی بات یہ بھی ہے کہ ان بد دیانت لوگوں کے ساتھ دیانتداری کا ڈھنڈھورا پیٹنے والے ابھی تک اسمبلیوں میں کیوں بیٹھے ہیں , کہیں یہ بھی انہی کے ساتھ تو نہیں -
فکر کی بات یہ بھی ہے کہ جو کام عدالتوں کے چیف کو کر لینا چاہیے تھا , وہ کام چور خود کریں گے کہ انکا انصاف کون کرے گا -
فکر کی بات یہ بھی ہے کہ حب الوطنی کے نعرے لگانے والے سیاسی پنڈت کیوں خاموش ہیں -
فکر کی بات یہ بھی کہ اگر ماضی کی طرح یہ بھی چند دن کے واویلا ہوا اور پھر کہانی ختم , تو قوم کے ساتھ بھیانک مذاق یونہی  ہوتا رہیگا -
فکر کی بات یہ بھی ہے کہ بھولے بھالے عوام کو اگر اب بھی عقل نہ آئ , تو کیا ہو گا -
فکر کی بات یہ بھی ہے کہ ہمیں لوٹنے والے ایک دو نہیں , ان گنت ہیں - اور ان لٹیروں کا ساتھ دینے والے بھی محافظوں کے روپ میں ان کو تحفظ دیتے ہیں -
سب سے زیادہ فکر کی بات یہ ہے کہ اگر ہم نے اب بھی سیاسی وابستگیوں کو اولیت دی , تو ہمیں بربادیوں سے کون بچاے گا -
اے  کاش ! ہم ایک قوم بن کر اس عفریت سے چھٹکارا حاصل کرنے کو اپنا مشن بنا لیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment