سوچنے کی بات یہ نہیں کہ ہمارے بہت سارے
لیڈروں نے ملک کی دولت کو لوٹ کر بیرون ملک اپنی تجارت کو بھی فروغ دیا , بنکوں
میں حفظ ما تقدم کے طور پر جمع پونجی بھی بنائی , پراپرٹی بھی خریدی -
فکر کی بات یہ ہے , کہ ہمارے لیڈر ذہنی طور
پر پاکستان میں خود کو اور اپنے سرماۓ کو محفوظ کیوں نہیں سمجھتے - وہ یا
تو ملک سے مخلص نہیں
یا پھر لٹنے کا خوف ہے-
فکر کی بات یہ بھی ہے کہ یہ سرمایہ کک بیک کے
طور بھی وصول کیا ہوا نہیں , اگر ایسا ہے تو ملک کو کتنا نقصان ملا ہو گا -
کیونکہ کک بیک یا کمشن دینے والے تاجر نے بھی خوب ہاتھ رنگے ہوں گے -
فکر کی بات یہ بھی ہے کہ یہ پیسہ اگر
ملک سے باہر گیا تو کسی بنک کو استعمال کیا گیا یا وزارتی وفدوں کے بریف کیسوں میں
گیا -
فکر کی بات یہ بھی ہے کہ یہ ملک سے جانے والے
دھن کی خبر اپنی ایجنسیوں کو کیوں نہیں ہوتی , ہمیں یہ خبریں دوسرے بتاتے ہیں , جب
کنٹرول نہیں تو چوری ہوتی رہے گی-
فکر کی بات یہ بھی ہے کہ ان بد دیانت لوگوں
کے ساتھ دیانتداری کا ڈھنڈھورا پیٹنے والے ابھی تک اسمبلیوں میں کیوں بیٹھے ہیں ,
کہیں یہ بھی انہی کے ساتھ تو نہیں -
فکر کی بات یہ بھی ہے کہ جو کام عدالتوں کے
چیف کو کر لینا چاہیے تھا , وہ کام چور خود کریں گے کہ انکا انصاف کون کرے گا -
فکر کی بات یہ بھی ہے کہ حب الوطنی کے نعرے
لگانے والے سیاسی پنڈت کیوں خاموش ہیں -
فکر کی بات یہ بھی کہ اگر ماضی کی طرح یہ بھی
چند دن کے واویلا ہوا اور پھر کہانی ختم , تو قوم کے ساتھ بھیانک مذاق یونہی
ہوتا رہیگا -
فکر کی بات یہ بھی ہے کہ بھولے بھالے عوام کو
اگر اب بھی عقل نہ آئ , تو کیا ہو گا -
فکر کی بات یہ بھی ہے کہ ہمیں لوٹنے والے ایک
دو نہیں , ان گنت ہیں - اور ان لٹیروں کا ساتھ دینے والے بھی محافظوں کے روپ میں
ان کو تحفظ دیتے ہیں -
سب سے زیادہ فکر کی بات یہ ہے کہ اگر ہم نے
اب بھی سیاسی وابستگیوں کو اولیت دی , تو ہمیں بربادیوں سے کون بچاے گا -
اے کاش ! ہم ایک قوم بن کر اس عفریت سے
چھٹکارا حاصل کرنے کو اپنا مشن بنا لیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment